ڈبلیو ایچ او نے حفاظتی ٹیکوں سے متعلق پاکستان کے توسیعی پروگرام کے تحت800 میں سے 748 موٹر سائیکل تقسیم کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 جولائی2025ء) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے گاوی، ویکسین الائنس کے تعاون سے ملک بھر میں حفاظتی ٹیکوں سے متعلق پاکستان کے توسیعی پروگرام کے تحت 65 اعلی ترجیحی اضلاع میں 800 سے زائد موٹر سائیکلیں تقسیم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جن میں سے 748 موٹر سائیکل ویکسینیٹرز میں تقسیم کر دیئے گئے ہیں تاکہ ویکسینیٹرز کی نقل و حرکت میں اضافہ کیا جا سکے ۔
جاری تفصیلات کے مطابق اس پروگرام کے تحت اب تک سندھ کے 21 اضلاع کو 300، پنجاب کے10 اضلاع کو 200 اور بلوچستان کے 24 اضلاع کو 108 ،آزاد کشمیر کے 4 اضلاع اور اسلام آباد کو 80 اور گلگت بلتستان کو 60 موٹر سائیکلیں فراہم کی گئی ہیں ۔یہ معاونت یونین کونسل کی سطح پر ڈبلیو ایچ او کی تکنیکی مدد سے تیار کردہ مائیکرو پلانز کے ذریعے کی جاتی ہے ،ان موٹر سائیکلوں کی تقسیم کا مقصد ویکسینیٹرز کی کمزور افراد تک رسائی کو آسان بنانا ہے۔(جاری ہے)
عالمی ادارہ صحت کے اشتراک سے 1978 میں حفاظتی ٹیکوں سے متعلق پاکستان توسیعی پروگرام کے قیام کے بعد سے ویکسین سے پاکستان میں لاکھوں زندگیاں بچائی گئی ہیں۔ پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ ڈاکٹر ڈیپینگ لو نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او ہر بچے کو زندگی بچانے والی ویکسین فراہم کرنے کے لیے پاکستان کی مدد جاری رکھے گا۔ پاکستان کے ساتھ اپنی 7 دہائیوں کی شراکت داری کے ایک حصے کے طور پر، ڈبلیو ایچ او ہر سال 7 ملین سے زائد بچوں اور 5 ملین مائوں کوتحفظ فراہم کرنے کے لئے حفاظتی ٹیکوں کے توسیعی پروگرام کی حمایت کرتا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے توسیعی پروگرام ڈبلیو ایچ او پروگرام کے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔