اسلام آباد میں57 اسلامی ممالک کی کانفرنس،لڑکیوں کی تعلیم بنیادی حق قرار ،مشترکہ اعلامیہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT
اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) حکومتِ پاکستان کے تعاون سے اسلام آباد میں مسلم ورلڈ لیگ کے زیر انتظام 11 اور 12 جنوری 2025 کو ایک اہم عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مسلم معاشروں میں لڑکیوں کی تعلیم کو درپیش چیلنجز اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات پر غور کیا گیا۔ اس کانفرنس میں 57 اسلامی ممالک کے نمائندگان، علما، دانشور، اور بین الاقوامی تنظیموں کے عہدیداران نے شرکت کی۔ اس اجلاس کا مقصد لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینا اور اس حوالے سے موجود ثقافتی اور سماجی رکاوٹوں کو دور کرنا تھا۔کانفرنس کے اختتام پر (اسلام آباد اعلامیہ) جاری کیا گیا، جس میں لڑکیوں کی تعلیم کو بنیادی انسانی حق قرار دیا گیا۔اعلامیہ میں زور دیا گیا کہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع سے محروم رکھنا نہ صرف انسانی
حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اسلامی اقدار اور تعلیمات کے بھی منافی ہے۔تمام شرکا نے متفقہ طور پر کہا کہ خواتین کی تعلیم کے بغیر سماجی ترقی ممکن نہیں اور اس کے فروغ کے لیے ہر ممکن وسائل مہیا کیے جائیں۔کانفرنس میں اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم کے اعلیٰ عہدیداران بھی موجود تھے، جبکہ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں اپنا موقف پیش کیا۔پاکستان کے وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے کانفرنس کی سرپرستی کی اور زور دیا کہ اسلامی دنیا کو خواتین کی تعلیم کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے اس کانفرنس کے دوران اسلامی اصولوں کے مطابق تعلیم کو ہر انسان کا حق قرار دیا۔شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم معاشروں میں موجود منفی روایات اور نظریات کو مسترد کیا جائے جو لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹ بنتے ہیں۔انہوں نے تجویز دی کہ دور دراز علاقوں میں تعلیم کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اسکالرشپس اور ڈیجیٹل تعلیمی مواد کی تیاری کی جائے۔اس کے ساتھ ہی، اسلامی ممالک کی حکومتوں کو تاکید کی گئی کہ وہ خواتین کے تعلیمی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور جامع اقدامات کریں۔کانفرنس کے دوران (میثاقِ مکہ) اور (چارٹر آف اسلامک یونٹی) جیسے دستاویزات کا حوالہ دیا گیا تاکہ اسلامی اقدار کے مطابق خواتین کی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔تمام شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ لڑکیوں کی تعلیم نہ صرف انفرادی ترقی بلکہ معاشرتی استحکام اور امن کے لیے بھی ضروری ہے۔اسلام آباد اعلامیہ میں واضح کیا گیا کہ مسلم دنیا کی حکومتیں اور غیر سرکاری تنظیمیں مل کر ایسے تعلیمی نظام تشکیل دیں جو خواتین کے لیے محفوظ، معیاری، اور مساوی مواقع فراہم کریں۔اس اقدام کے تحت عالمی سطح پر تعلیمی نظام میں تبدیلیوں کا آغاز کیا جائے گا تاکہ مسلم معاشروں میں خواتین کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
مشترکہ اعلامیہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لڑکیوں کی تعلیم اسلام ا باد تعلیم کو تعلیم کے کے لیے
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔