برین اسٹروک کا شکار بھارتی اداکار کی حالت اب کیسی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT
برین اسٹروک کا شکار ہونے والے بالی ووڈ کے سینئر اداکار تیکو تلسانیہ کی صحت کے بارے میں ان کی بیٹی، اداکارہ شیکھا تلسانیہ نے تازہ ترین معلومات فراہم کی ہیں۔
شیکھا نے اتوار کو انسٹاگرام اسٹوریز پر اپنے 70 سالہ والد کی صحت کے بارے میں اپ ڈیٹ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی حالت میں بہتری آ رہی ہے۔
یاد رہے کہ مزاحیہ کرداروں کے لیے مشہور تیکو تلسانیہ کو جمعہ کے روز برین اسٹروک کے بعد ممبئی کے دھیرو بھائی امبانی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔
والد کے برین اسٹروک کے بعد اپنے پہلے بیان میں شیکھا نے اس لمحے کو جذباتی قرار دیا اور مشکل وقت میں مداحوں کی محبت اور دعاؤں کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے والد تیزی سے صحتیاب ہو رہے ہیں اور اب ان کی حالت کافی بہتر ہے۔ شیکھا نے کوکیلابن امبانی اسپتال کے ڈاکٹرز اور عملے کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے بہترین دیکھ بھال فراہم کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: برین اسٹروک
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔