میرے شوکاز پر سینیٹ و قومی اسمبلی ممبران پر مشتمل کمیٹی بنادیں، شیر افضل مروت
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شیر افضل مروت کا معاملہ بھی اٹھایا گیا، شیر افضل مروت نے کہا کہ میرے شوکاز پر سینیٹ اور قومی اسمبلی ممبران پر مشتمل کمیٹی بنا دیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شیر افضل مروت نے کہا پہلے بھی ایک کمیٹی بنائی جس میں یکطرفہ سوچ کے حامل افراد کوشامل کیا گیا، شیر افضل مروت نے مطالبہ کیا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے دو دو ممبران کو کمیٹی میں شامل کیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت کو پارٹی نے شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ کمیٹی کے سامنے شوکاز کے معاملے پر جواب دوں گا اور مطمئن کروں گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمانی پارٹی نے ارکان کو میڈیا پر کھل کر اختلافی بیانات دینے سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شیر افضل مروت کو پارٹی نے شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔
شیر افضل مروت کو پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
شوکاز نوٹس کے متن کے مطابق شیر افضل مروت کو بطور ممبر اسمبلی و کور کمیٹی مذاکرتی عمل کا مکمل ادراک ہے، بطور ممبر ان کو کسی مذاکراتی ٹیم ممبر کے خلاف بیان نہیں دینا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شیر افضل مروت نے شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔