ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری روسی وزیراعظم میخائل میشوسٹن سے مصافحہ کررہے ہیں

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت نے امریکی پابندیوں کے زیر اثر روسی کمپنیوں کے ساتھ تجارت روک دی۔ اس سے قبل امریکی وزارت خزانہ نے جمعہ کے روز روس کی خام تیل کی پیداوار سے متعلق کمپنیوں گارپ رام نیفٹ اور سرگوٹنیفٹگاڈ سمیت انشورنس کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں، تاکہ روس کو یوکرین جنگ لڑنے میں اقتصادی مشکلات کا سامنا ہو سکے۔ خبررساں اداروں کے مطابق 10جنوری کی مہلت سے فائدہ اٹھاکر مودی سرکار نے 2 ماہ کے لیے درکار تیل ذخیرہ کرلیا ہے، جب کہ تیل کی طلب پوری کرنے کے لیے امریکا، کینیڈا، برازیل اور گیانا سے رابطوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بھارت کے ایک ذمے دار کا کہنا ہے کہ ہم روسی تیل کے تیسرے بڑے خریدار ہیں اور روس ہم تک پہنچنے کا راستہ نکال لے گا۔ دوسری جانب ویتنام اور روس کے درمیان جوہری توانائی سے تعلق اہم معاہدہ طے پاگیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوب مشرقی ایشیائی ملک ویتنام اپنے جوہری توانائی کے منصوبوں کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔روسی سرکاری جوہری توانائی کمپنی روساتوم اور ویتنام کی کمپنی ای وی این کے درمیان 2050ء تک جوہری توانائی کا معاہدہ طے پایا ہے۔ 2016 ء میں ویتنام نے اپنے سیکورٹی خدشات کے تحت 2جوہری پاور پلانٹس کی تعمیر کو روک دیا تھا ۔روسی وزیراعظم میخائل میشوسٹن نے ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ ٹو لام اور ویتنام کی قومی اسمبلی کے چیئرمین ٹران تھانہ مین سے ملاقات کی،جس میں اہم معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی