کراچی؛ ڈکیتی میں مزاحمت اور ٹریفک حادثات میں 15 دنوں میں 36 شہری جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں رواں ماہ جنوری کے 15 دنوں میں ڈکیتی مزاحمت، ہوائی فائرنگ اور ٹریفک حادثات میں 36 افراد جاں بحق ہوئے۔
شہر میں رواں ماہ جنوری کے 15 روز میں ڈکیتی مزاحمت ، ہوائی فائرنگ اور ٹریفک حادثات میں ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق چھیپا فاؤنڈیشن نے اعداد و شمار جاری کیے ہیں جس کے مطابق رواں ماہ کے 15 روز میں ٹریفک حادثات میں خواتین ، کمسن بچوں و بچیوں ، نو عمر لڑکوں اور بزرگ سمیت مجموعی طور پر 36 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ ٹریفک حادثات میں 528 شہری زخمی بھی ہوئے۔
چھیپا فاؤنڈیشن کے مطابق زخمیوں میں خواتین ، بچے ، بوڑھے اور جوان بھی شامل ہیں جبکہ شہر میں رواں سال کے 15 روز میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر 3 افراد کو ڈاکوؤں نے فائرنگ کر کے ابدی نیند سلا دیا جبکہ اس دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے مزاحمت پر 15 سے زائد افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔
چھیپا فاؤنڈیشن کے مطابق ڈسٹرکٹ کورنگی کے علاقے زمان ٹاون میں 12 روز کے دوران 2 شہری ڈاکوؤں کی فائرنگ سے زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ ڈکیتی مزاحمت پر کورنگی زمان ٹاون میں پہلا قتل ساحل مسیح کا ہوا۔
ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ سے دوسرا قتل اسٹیل ٹاؤن گھگھر پھاٹک میں آصف نامی نوجوان کا ہوا جبکہ تیسرا قتل ڈسٹرکٹ کورنگی زمان ٹاؤن میں نماز فجر کی ادائیگی کے بعد گھر جانے والے حافظ مظفر کو ڈاکوؤں نے اپنی سفاکانہ فائرنگ کا نشانہ بنا کر ابدی نیند سلا دیا۔
چھیپا فاؤنڈیشن کے مطابق شہر میں شادی کی خوشی میں کی جانے والی فائرنگ سے پہلی ہلاکت بھی ڈسٹرکٹ کورنگی کے علاقے عوامی کالونی میں ہوئی جبکہ رواں سال اب تک ہوائی فائرنگ سے مجموعی طور پر 11 افراد زخمی ہوگئے جس میں 9 مرد 2 خواتین شامل ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹریفک حادثات میں فائرنگ سے کے مطابق ڈاکوو ں
پڑھیں:
بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے ہیڈکوارٹر میں اہلکار کی اندھا دھند فائرنگ، 2 اہلکار ہلاک، تیسرے کی حالت نازک
بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے سیکٹر ہیڈکوارٹر میں ایک اہلکار کی فائرنگ سے 2 اہلکار ہلاک جبکہ ایک شدید زخمی ہو گیا۔ واقعے کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ فائرنگ کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ واقعہ ضلع مالدہ کے 17 مائل سیکٹر ہیڈکوارٹر میں پیش آیا، جہاں بی ایس ایف کی 119ویں اور 71ویں بٹالین کے ہیڈکوارٹر قائم ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق 119ویں بٹالین سے تعلق رکھنے والے اہلکار شیوم مشرا نے آرام کرنے والے 71ویں بٹالین کے اہلکاروں پر اچانک اپنی سرکاری رائفل سے فائرنگ کر دی، جس سے کیمپ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
فائرنگ کے نتیجے میں 71ویں بٹالین کے 51 سالہ اجے کمار سنگھ، جو بھارتی ریاست بہار کے رہائشی تھے، اور 37 سالہ امباداس سریش درگو، جن کا تعلق مہاراشٹر سے تھا، موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ ان کے ساتھی وکاس ورما شدید زخمی ہو گئے۔ زخمی اہلکار کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
واقعے کے فوراً بعد بی ایس ایف کے اہلکاروں نے ملزم شیوم مشرا، جو ریاست چھتیس گڑھ کا رہائشی ہے، کو حراست میں لے لیا۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر فائرنگ کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ بی ایس ایف نے واقعے کی اندرونی انکوائری شروع کر دی ہے، جبکہ یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ آیا واقعہ کسی ذاتی تنازع، ذہنی دباؤ یا دیگر عوامل کا نتیجہ تھا۔
بھارتی سیکیورٹی فورسز میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ذہنی دباؤ، طویل ڈیوٹی اوقات، اندرونی تنازعات اور ساتھی اہلکاروں پر فائرنگ جیسے واقعات متعدد بار رپورٹ ہو چکے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے واقعات فورسز میں نفسیاتی دباؤ اور فلاحی نظام سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کرتے ہیں، جس کے باعث اہلکاروں کی ذہنی صحت اور پیشہ ورانہ معاونت کے نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں