جنگ بندی اعلان کے بعد فضائی حملے اسرائیلی مغویوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، حماس کاانتباہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2025 GMT
غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی اعلان کے بعد کیے جانے والے حملے اسرائیلی مغویوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے آج جاری ہونے والے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے بعد اسرائیل نے جن مقامات پر حملے کیے ان میں سے ایک مقام پر خاتون مغوی بھی موجود تھی۔
ابو عبیدہ نے کہا کہ اس خاتون کا نام جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں رہا کیے جانے والے مغویوں کی فہرست میں شامل تھا۔
ابوعبیدہ نے خاتون اسرائیلی مغوی کی حالت کے بارے میں تفصیلات بیان نہیں کیں تاہم یہ ضرور کہا کہ اس مرحلے پر کوئی بھی اسرائیلی حملہ مغویوں کی آزادی کو کسی المیے میں تبدیل کرسکتا ہے۔
خیال رہے کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے باوجود اسرائیل کے مقبوضہ پٹی پر حملے رک نہ سکے اور تازہ حملوں میں 73 فلسطینی شہید ہوگئے۔
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق بدھ کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے اعلان کے بعد اسرائیلی حملوں میں کم از کم 73 فلسطینی شہید ہوئے۔
ایجنسی کے ترجمان نے بتایا کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود حملے نہیں رکے، اسرائیل کی جانب سے حملے غزہ پٹی کے مختلف علاقوں میں کیے گئے، جن میں 73 فلسطینی صرف غزہ میں شہید ہوئے۔
واضح رہے کہ بدھ کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں وزیر اعظم محمد بن عبد الرحمان بن جاسم الثانی نے غزہ جنگ بندی معاہدہ طے پانے کا اعلان کیا اور کہا کہ جنگ بندی معاہدہ کروانے کے لیے قطر، مصر اور امریکا کی کوششیں کامیاب ہوگئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا اطلاق 19 جنوری سے ہوگا، حماس اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے مراحل پر عمل درآمد کے حوالے سے کام جاری ہے۔
دوسری جانب جنگ بندی معاہدے کے لیے آج ہونے والی اسرائیلی کابینہ کی میٹنگ بھی اب تک نہیں ہوسکی ہے اور اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم نے الزام عائد کیا ہے کہ حماس آخری وقت میں معاہدے سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔
اس حوالے سے حماس کے ایک رہنما نے غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حماس جنگ بندی سے متعلق اپنی باتوں پر قائم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مسجد شہید، قریبی مکانات بھی تباہ
اسرائیلی قابض جنگی طیاروں نے وسطی غزہ کی پٹی میں بوریج کیمپ میں ایک مسجد اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو فضائی حملے میں تباہ کردیا ہے۔
صفا نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے بوریج پناہ گزین کیمپ کے جنوب مشرق میں بلاک 9 میں مسجد النور اور اس کے آس پاس کے علاقے کو تباہ کر دیا۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے جبالیہ پناہ گزین کیمپ پولیس اسٹیشن کے قریب ایک مکان کو بھی نشانہ بنایا۔
مقامی میڈیا نمائندے نے کہا کہ اسرائیلی جنگی طیارے غزہ کی پٹی کے متعدد علاقوں پر کم اونچائی پر پرواز کر رہے ہیں۔
غزہ شہر کے مشرق میں واقع زیتون محلے کے کچھ حصوں کے لیے بھی انخلا کی وارننگ جاری کی گئی جو کہ کئی دنوں سے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی زد میں ہے، نیز شمالی غزہ کی پٹی میں بیت لاہیہ پروجیکٹ کے علاقے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
مسلسل اسرائیلی بمباری نے خطے میں بڑے پیمانے پر خوف و ہراس کو جنم دیا ہے جبکہ رہائشیوں کو متاثرہ علاقوں سے انخلا پر مجبور کیا جارہا ہے۔
گزشتہ سال اکتوبر سے نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں کارروائیاں اور حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جس میں متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔