Express News:
2026-07-24@12:43:35 GMT

پاکستان بنگلہ دیش ، میجر ڈیلم کا انٹرویو

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT

بھارتی آرمی چیف کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی ویسے تو کئی نئی بات نہیں۔ لیکن فی الحال اس ہرزہ سرائی اور غصہ میں پاکستان اور بنگلہ دیش کی بڑھتی ہوئی قربتیں شامل کر لیں۔ بنگلہ دیش کا اعلیٰ سطح کا فوجی وفد پاکستان کا دورہ کر رہا ہے اور دوسری طرف پاکستان کا اعلیٰ سطح کا تجارتی وفد بنگلہ دیش میں موجود ہے۔

صاف ظاہر ہے پاکستان بنگلہ دیش سے تجارت بڑھانا چاہتا ہے اس لیے تجارتی وفد بھیجا گیا ہے۔ بنگلہ دیش کو فوجی مدد چاہیے اس لیے بنگلہ دیش نے فوجیوں کا وفد پاکستان بھیجا ہے۔ یہ سب بھارت کے لیے ناقابل قبول ہے۔ جیسے جیسے بنگلہ دیش اور پاکستان قریب آئیں گے بھارت کے لیے مشکلات بڑھیں گی۔ دونوں بھارت کے ہمسائے ہیں، دونوں کی بھارت کے ساتھ طویل سرحدیں ہیں اور اگر دونوں بھارت کے خلاف متحد ہو جاتے ہیں تو بھارت کے لیے کوئی نیک شگون نہیں۔ میں بھارتی آرمی چیف کے بیانات کو خطے کی اس نئی تبدیلی کے تناظر میں ہی دیکھتا ہوں۔

بنگلہ دیش کی سیاست میں بہت تبدیلیاں آرہی ہیں۔ حسینہ واجد کی جماعت اگلے انتخابات میں تو حصہ لیتی بھی نظر نہیں آرہی۔ خالدہ ضیا کو بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے تمام کرپشن مقدمات سے بری کر دیا ہے۔ ان کی صحت بھی ٹھیک نہیں ہے۔ کیا وہ اگلے انتخابات میں حصہ لیں گی۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر سے پابندی ختم ہو چکی ہے۔

وہ بھی کئی انتخابات کے بعد انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ لیکن سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ جن طلبا ء رہنماؤں نے حسینہ واجد کو اقتدار سے نکالنے کے لیے طلبا ء کی تحریک چلائی تھی وہ بھی اپنی نئی سیاسی جماعت بنا رہے ہیں۔ ایک امید ہے کہ اسے نوجوانوں کی بڑی تعداد میں حمایت حاصل ہوگی اور وہ اگلے انتخابات میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ یہ نئی جماعت ایک نیا سیاسی اسکرپٹ بھی لکھنا چاہتی ہے۔ نئے آئین کی بھی بات ہو رہی ہے۔ موجودہ صدر کو نکالنے کی بات بھی ہو رہی ہے، اس لیے بنگلہ دیش کی سیاست نئی شکل لے رہی ہے۔

بنگلہ دیش کا نوجوان پاکستان سے محبت کرتا ہے۔ ہم نے وہاں پاکستانی فنکار بھیج کر دیکھا ہے نوجوانوں نے بہت پذیرائی کی ہے۔ پاکستان کے لیے محبت حسینہ واجد کے خلاف تحریک میں بھی نظر آئی تھی۔ پاکستان زندہ باد کے نعرے تب بھی سنائی دیے تھے۔ وہاں بھارت کے خلاف نفرت اور پاکستان کے لیے محبت بڑھ گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے حسینہ واجد کا پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا ان کے جانے کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ بنگلہ دیش کے عوام نے کبھی اس پراپیگنڈے کو قبول نہیں کیا۔

مجھے لگتا ہے کہ بنگلہ دیش کی نئی نسل بنگلہ دیش کی پچھلی نسل سے زیادہ پاکستان سے محبت کرتی ہے۔ وہاں اب پاکستان کے لیے بالکل نئی فضا ہے، بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان دوستی اور بھائی چارے کی نئی داستان شروع ہو رہی ہے۔ اگر پاکستان کی حکومت نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا تو بنگلہ دیش اور پاکستان بہترین دوست ہوں گے، تعلقات بہترین ہوں گے، تعاون ہر سطح پر ہوگا۔ دونوں ممالک کو اس وقت ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ بھارت نے حسینہ واجد کے دور میں بنگلہ دیش کی کوئی خاص مدد نہیں کی بلکہ بنگلہ دیش کا مالی اور سیاسی استحصال ہی کیا ہے۔ جس کے نتائج آج بھارت کے سامنے ہیں۔ بھارت جب تک حسینہ واجد کو پناہ دیے رکھے گا، بنگلہ دیش میں بھارت کے لیے نفرت بڑھتی رہے گی۔

بنگلہ دیش کے ایک سابق ہیرو میجر ڈیلم بھی کئی سال کی گمنامی کے بعد سامنے آئے ہیں۔ میجر ڈیلم وہاں کی آزادی کے ہیرو بھی ہیں اور حسینہ واجد نے انھیں پھانسی کی سزا بھی سنائی ہوئی تھی، وہ غائب تھے، کسی کو نہیں معلوم تھا وہ کہاں ہیں۔ امریکا میں مقیم ایک بنگلہ دیشی صحافی نے یوٹیوب پر ان کا ایک انٹرویو کیا ہے۔چند دن پہلے ہوئے اس انٹرویو کو اب تک ایک کروڑ 24لاکھ لوگ دیکھ چکے ہیں۔ اس نے بنگلہ دیش کے سیاسی انٹرویوز میں ایک نیا ریکارڈ بنایا ہے۔

میجر ڈیلم کو بنگلہ دیش کا سب سے بڑا فوجی اعزاز بھی دیا گیا تھا۔ وہ بنگلہ دیش کی آزادی کے ہیرو کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ میجر ڈیلم نے کہا ہے کہ نیا ملک بننے کے بعد بنگلہ دیش کی آزادی اور خود مختاری بھارت کے قبضہ میں چلی گئی تھی۔ ہم نے بنگلہ دیش بھارت کی گود میں جانے کے لیے نہیں بنایا تھا۔ انھوں نے حسینہ واجد کے خلاف تحریک کو بنگلہ دیش کی بھارتی تسلط سے آزادی کی تحریک قرار دیا ہے۔

میجر ڈیلم کے مطابق بھارت نے جان بوجھ کر بنگلہ دیش کو عسکری طور پر کمزور رکھا ہے۔ بھارت نہیں چاہتا کہ بنگلہ دیش کی مضبوط فوج ہو۔ بنگلہ دیش کی فوج کو بھارت اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ آج بنگلہ دیش کو سب سے پہلے عسکری طور پر اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ بھارت کے تسلط سے نکل سکے۔ بھارت بنگلہ دیش کو اپنی کالونی بنانا چاہتا تھا اور چاہتا ہے۔ اسی لیے میجر ڈیلم کے مطابق حسینہ کے خلاف تحریک دراصل بھارتی تسلط کے خلاف تحریک تھی۔بنگلہ دیشی عوام سے حسینہ کو شکست نہیں ہوئی بھارت کو شکست ہوئی ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ شیخ مجیب کے خلاف جب بغاوت ہوئی تھی تو اس بغاوت کی قیادت بھی میجر ڈیلم نے کی تھی۔ اسی بغاوت میں شیخ مجیب قتل ہوئے تھے اور ان کے قتل کا اعلان میجر ڈیلم نے ڈھاکہ ریڈیو سے کیا تھا۔ تب بھی میجر ڈیلم شیخ مجیب کی بھارت نواز پالیسی کے خلاف تھے اور ان کا موقف تھا کہ شیخ مجیب بنگلہ دیش کو بھارت کی کالونی بنا رہا تھا، بنگلہ دیش میں بھارتی تسلط قائم کر رہا تھا، اس لیے وہ بغاوت بنگلہ دیش کی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھی۔میجر ڈیلم کے مطابق پاک فوج پر بنگالی خواتین کو ریپ کرنے کے الزامات بھارتی پراپیگنڈا ہیں۔

ایسی کوئی بات بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد سامنے نہیں آئی، یہ سب پاک فوج کو بدنام کرنے کے لیے پراپیگنڈا کیا گیا تھا۔ میجر ڈیلم نے طلبا ء اتحاد کے ساتھ چلنے کا اعلان کیا ہے، انھوں نے جہاں بنگلہ دیش واپسی کی خواہش کا اظہار کیا ہے وہاں مستقبل میں طلبا ء اتحاد کی حمایت کا اعلان بھی کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوجوان بنگلہ دیش کو اس بحران سے نکال سکتے ہیں۔ میجر ڈیلم نے اپنے اس انٹرویو میں کہا ہے کہ 14دسمبر کو بنگالی دانشوروں کے قتل کا دن منایا جاتا ہے۔

14دسمبر کو پاک فوج کو تو فرصت ہی نہیں تھی کہ وہ بنگالی دانشوروں کے قتل کی منصوبہ بندی کرتی، وہاں سرنڈر کی تیاری تھی، پاک فوج مشکل میں تھی۔ یہ لوگ بھی بھارت نے مارے اور الزام پاکستانی فوج پر ڈال دیا۔ بھارت جانتا تھا کہ یہ دانشور بنگلہ دیش میں بھارتی کا تسلط نہیں قائم ہونے دیں گے۔ میجر ڈیلم کے اس انٹرویو کو بنگلہ دیش کے تمام اخبارات اور ٹی وی نے بعد میں دکھایا ہے اور شائع کیا ہے۔ اس انٹرویو کی پذیرائی بھی بنگلہ دیش میں پاکستان کے حوالے سے بدلتی سوچ کی عکاس ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش کی ا زادی کے خلاف تحریک بنگلہ دیش میں انتخابات میں بنگلہ دیش کے کو بنگلہ دیش بنگلہ دیش کا بنگلہ دیش کو میجر ڈیلم نے بھارت کے لیے میجر ڈیلم کے اور پاکستان اس انٹرویو پاکستان کے حسینہ واجد میں بھارت پاک فوج رہی ہے اس لیے کیا ہے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • ایشین گیمز کرکٹ : پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو براہِ راست کوارٹر فائنل میں رسائی مل گئی
  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا