کون مجرم؟ کس نے سہولت کاری کی، کسے اشتہاری قرار دیا گیا؟ تفصیلی فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT
کون مجرم؟ کس نے سہولت کاری کی، کسے اشتہاری قرار دیا گیا؟ تفصیلی فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 17 January, 2025 سب نیوز
راولپنڈی:احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا، جس میں ملزمان میں سے کوئی مجرم، کوئی سہولت کار اور کوئی اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔148 صفحات پر مشتمل احتساب عدالت کے تفصیلی فیصلے کے مطابق عمران خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے جب کہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔
عدالت نے دونوں کو قید کے علاوہ جرمانے کی سزا بھی سنائی۔
فیصلے میں ذلفی بخاری، مرزا شہزاد اکبر، فرحت شہزادی عرف گوگی، ضیا المصطفی نسیم سمیت 6 ملزمان کو فیصلے میں اشتہاری قرار دیا گیا۔
تفصیلی فیصلہ
IK TK 2 judgment 17 Jan 25Download.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔