Nai Baat:
2026-07-24@13:40:56 GMT

اچھی معیشت گڈ گورننس کے لیے ناگزیر

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2025 GMT

اچھی معیشت گڈ گورننس کے لیے ناگزیر

معاشیات کا قدیم تصور یہ ہے کہ اسے دولت کا علم قرار دیا جاتا تھا۔ ہمارے معاشرے میں یہ تصور آج بھی کافی حدتک موجود ہے جس کی وجہ سے ایک عام آدمی معیشت کے بنیادی عقائد کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا علاوہ ازیں ریاستی ماہرین کی طرف سے معاشی معاملات کی وضاحت کے لیے جو اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں وہ عوام الناس کے لیے ناقابل فہم ہیں لہٰذا کوئی سمجھنا چاہیے بھی تو یہ اس کے لیے آسان نہیں ہوتا بلکہ یہ اس کے بس کی بات نہیں ہے۔ معیشت کی بات آتی ہے تو اعداد و شمار عام صارفین کا راستہ روک لیتے ہیں حالانکہ حکومتیں تحریف کردہ اعداد و شمار کے ذریعے عام آدمی کو قائل کرنے کے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں۔ عوامی نفسیات یہ ہے کہ انسان جب کنفیوژہو جاتا ہے تو پھر وہ غیر حقیقی معلومات کا بھی قائل ہو جاتا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ آج کے دور میں عوام کا معیشت کے بنیادی اصولوں سے واقف ہونا ناگزیر ہے تا کہ انہیں سرمایہ داروں کا رپوریٹ طبقے اور حکومتوں کی حیلہ بازیوں کا علم ہو سکے کہ کس کس طرح عوام کا استحصال جاری رہتا ہے اور انہیں پتہ بھی نہیں چلتا کہ ان کے ساتھ کیا ہاتھ ہو گیا ہے۔
لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) کے سابق پروفیسر ڈاکٹر فہد رحمن کا شمار ان ماہرین معاشیات میں ہوتا ہے جن کا فوکس یہ ہے کہ عام آدمی کے لیے معیشت کی ABC سمجھے بغیر قطعی طور پر کوئی چارہ نہیں۔ جب تک وہ نہیں سمجھیں گے وہ سیاسی قیادت کی معاشی پالیسی اور سیاستدانوں کی عوام سے متعلق خیر خواہی کا پردہ چاک نہیں کر سکیں گے۔ ہر الیکشن کے موقع پر ووٹرز اگر پارٹیوں کی معاشی کارکردگی یا اگلے الیکشن کے لیے سیاسی منشور کی کسوٹی بنائیں تو یقینا اس سے ملک میں عوام دوست قیادت اقتدار میں آسکتی ہے۔
محترم ڈاکٹر فہد رحمن نے یونیورسٹی آف نیو ساو¿تھ ویلز آسٹریلیا سے پی ایچ ڈی کی ہے اس سے پہلے انہوں نے جاپان کی معتبر یونیورسٹی GRIPS سے پالیسی سٹیڈیز میں ماسٹرز کیا اور کافی عرصہ تک پاکستان کے سرکاری ادارے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز ڈویلپمنٹ اتھارٹی SMEDA میں فرائض انجام دیتے رہے۔ ان کی حال ہی میں شائع ہونے والی انگریزی کتاب "Pakistan Structural Economic Problems in the Era of Financial Globalization عکس پبلی کیشن لاہور نے شائع کی ہے۔ یہ کتاب غیر روایتی انداز میں سادہ اور عام فہم زبان میں ہے جس میں بھاری بھر کم معاشی اصطلاحات سے گریز کیا گیا ہے اس کو سمجھنے کے لیے قاری کا اکانومسٹ یا ریسرچر ہونا ضروری نہیں۔ کتاب کے شروع میں جی سی یونیورسٹی لاہور کے ہسٹری کے پروفیسر ڈاکٹر محترم عرفان وحید عثمانی اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی انڈیا کے پروفیسر امیت بہادری کے خیالات درج کیے گئے ہیں جنہیں پڑھ کر اس کتاب کا مطالعہ کرنے کا فطری تجسس پیدا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ Grips جاپان کے پروفیسر ڈاکٹر امداد حسین نے کتاب پر اپنا مختصر تجزیہ رقم کیا ہے۔
ڈاکٹر فہد رحمن کہتے ہیں کہ عام طور پر کسی ملک کی معاشی پرفارمنس کا اندازہ لگانے کے لیے ملک کی جی ڈی پی یا فی کس قومی آمدنی کو ایک indicator سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ اگر جی ڈی پی بڑھ رہی ہے تو ملک ترقی کر رہا ہے لیکن اس کے برعکس کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ درست نہیں ہے کیونکہ حکومتیں اعداد و شمار کے بارے میں سمجھ مبالغہ آمیزی کام لیتی ہیں لہٰذا اس کی بجائے یہ دیکھنا چاہیے کہ کوئی حکومت تعلیم صحت نکاسی¿ آب اور سماجی ڈھانچے پر کتنا خرچ کر رہی ہے۔ ڈاکٹر فہد رحمن کے مطابق انہوں نے کوشش کی ہے کہ فنانشل گلوبلائزیشن کے اس دور میں معیشت کے سٹرکچرل ایشوز کو منظر عام پر لایا جائے۔
مصنف کا خیال ہے کہ غیر مستحکم معاشی اور سیاسی حالات کی وجہ سے روزگار کے حصول کے لیے دیہات سے شہروں کی طرف ہجرت سماجی ڈھانچے پر دو طرح سے اثر انداز ہو رہی ہے ایک تو شہری زندگی پر دباو¿ بڑھتا جا رہا ہے دوسرا اہل افرادی قوت کی نقل مکانی سے دیہات میں ترقی اور بہتری کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر فہد رحمن پہلے معیشت دان بھی جو برین ڈرین کے مقامی اثرات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
کتاب کے شروع میں معیشت کے روایتی اور غیر روایتی Formal & Informal شعبوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملازمتوں کے ضمن میں 72 فیصد سے زیادہ افرادی قوت informal سیکٹر میں کام کر رہی ہے۔ یہ 2021 ءکے اعداد و شمار ہیں۔
ڈاکٹر فہد رحمن کی کتاب کا سب سے اہم موضوع فنانشل گلوبلائزیشن ہے جو ہماری قومی معیشت پر سب سے زیادہ گہرے اثرات مرتب کیے ہوئے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک اس گلوبلائزیشن کا حصہ بن رہے ہیں جبکہ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کے لیے اس میں رکاوٹیں حائل ہیں۔ ایکسچینج ریٹ اور شرح سود اس کی مثالیں ہیں جو گلوبلائزیشن کی وجہ سے کافی تغیر پذیر ہیں اس سے زرعی شعبے میں منفی اثرات پڑتے ہیں۔
Multiple Financial Institutions یا MFIs کو مصنف نے کافی تفصیل سے ان کی معاشی مداخلت کو اجاگر کیا ہے ان سے مراد بین الاقوامی قرضہ دینے والے ادارے بشمول آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک شامل ہیں جو ایسی پالیسیاں زبردستی تھوپ دیتے ہیں جو طویل مدتی طور پر بجائے فائدے کے نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ ڈاکٹر فہد رحمن کا کہنا ہے کہ قومی معاشی مسائل کے حل کے لیے ہمیں MFis کی بجائے مقامی ماہرین پر انحصار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ سٹرکچرل ریفارمز کے نتیجے میں عوام کی زندگی پر آنے والے منفی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ڈاکٹر فہد رحمن کہتے ہیں کہ ہر ملٹری اور سول حکومت آئی ایم ایف کے پاس قرضہ لینے پر مجبور ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ جب حکومت قرضہ لیتی ہے تو اپوزیشن اس کی مخالفت کرتی ہے اور کشکول جیسے الفاظ استعمال کرتی ہے۔ حالانکہ ان کے بغیر ادائیگیوں کا توازن ناممکن ہے البتہ میکرو اکنامک ریفارم کے نام پر کیے گئے اقدامات معیشت کی نشوونما کا عمل بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔
کتاب کے دوسرے حصے میں انہوں نے پاکستان کے سٹرکچرل معاشی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے 5 شعبوں پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے جس میں ناقابل برداشت حد تک مہنگی بجلی، زوال اور جمود پذیری کا شکار زرعی شعبہ، اوسط درجے کا انڈسٹریل سیکٹر، زرمبادلہ کے حصول میں رکاوٹیں اور لاقانون رئیل سٹیٹ سیکٹر شامل ہیں۔ مذکورہ بالا ہر شعبے پر الگ سے تفصیلی بحث درکار ہے۔ ڈاکٹر فہد رحمن نے ان سب شعبوں پر اپنی گراں قدر تجاویز دی ہیں جن پر حکومت کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔
سٹرکچرل یا ڈھانچہ جاتی مسائل اور ان کے حل کے فقدان کے نتائج کو انہوں نے الگ چیپٹر میں رقم کیا ہے جس میں ادائیگیوں کا بحران، افراط زر اور جائیداد کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ شامل ہیں۔
اگر حکومتی وزراءیا مشیران حکومت میں سے کوئی شخصیت اس کتاب کا غیر جانبداری اور غیر سیاسی انداز میں مطالعہ کرتے تو اس میں مذکورہ تمام پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے واضح تجاویز دی گئی ہیں۔ معیشت حکمرانی کا اہم ترین شعبہ ہے۔ ملک میں معاشی حالت تبدیل کیے بغیر حقیقی تبدیلی کا تصور بے معنی ہے اور معیشت کو سمجھنے کے لیے آپ ماہرین کی رائے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nai Baat

کلیدی لفظ: کی معاشی معیشت کے انہوں نے یہ ہے کہ رہی ہے کے لیے

پڑھیں:

تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے، وزیر صحت سندھ

پاکستان میں ہر 45 منٹ بعد ایک خاتون حمل سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث جان سے محروم ہوجاتی ہے، ماں کی زندگی بچانے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی اور صحت کی سہولیات تک رسائی ضروری ہے۔

جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے شعبہ امراض نسواں وارڈ 9-B کے اشتراک سے چوتھی انٹرنیشنل فیملی پلاننگ سمٹ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرین صحت، محققین، پالیسی سازوں اور متعلقہ شعبوں سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔

سمٹ کا موضوع ’’نوجوان، خاندانی منصوبہ بندی اور ڈیجیٹل جدت‘‘ تھا، جس کا مقصد زچہ و بچہ کی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید اور مؤثر حکمت عملیوں پر غور کرنا تھا۔

سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ سندھ حکومت زچگی کی سہولیات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے، پرانی ڈسپنسریوں کو برتھنگ اسٹیشنز میں تبدیل کیا جارہا ہے، جبکہ کمیونٹی مڈوائفز کو محفوظ طریقے سے گھروں میں زچگی کی خدمات فراہم کرنے کے لیے تربیت دی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیچیدہ اور ہنگامی زچگی کے کیسز کو بروقت اسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس سسٹم کو مزید مؤثر بنایا جارہا ہے، جبکہ صحت کے مراکز پر ادویات اور ضروری طبی سامان کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے سپلائی چین کے نظام میں بھی بہتری لائی جارہی ہے، تاکہ بنیادی سطح پر کام کرنے والے طبی عملے کو مریضوں کی جان بچانے کے لیے تمام ضروری سہولیات دستیاب ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں میڈیا کی موجودگی کی اجازت نہیں ہوتی، میڈیا سے بات کرنے کے خواہشمند ڈاکٹر اور دیگر افراد اسپتال سے باہر آ کر اپنا مؤقف دیں۔ انہوں نے میڈیا سے کہا کہ اسپتالوں کی خامیوں کی نشاندہی کریں، کیونکہ آپ کی نشاندہی سے ہی ہمیں مدد ملتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام ڈاکٹرز کو میڈیا سے بات کرنے اور اپنا مؤقف دینے کی اجازت ہے، ڈاکٹرز میڈیا کو مؤقف دیں اور تمام حقائق سے آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جناح اسپتال کے مسائل کے لیے ڈاکٹر خالد شیر سے رابطہ کریں، میں نے ڈاکٹر خالد شیر کو کہہ دیا ہے کہ اب سے وہ میڈیا کو مؤقف دیں گے۔

کراچی میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں جاری چوتھی انٹرنیشنل فیملی پلاننگ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ آج میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ سندھ کیا کر رہا ہے، سندھ حکومت کیا کر رہی ہے، اور سندھ اس حوالے سے ملک میں سب سے آگے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت سے ایسے قوانین بنائے ہیں جو کہیں اور موجود نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی سیکشن کی وجہ سے سندھ میں شرحِ اموات بڑھ رہی ہے، ہم اس پر کام کر رہے ہیں اور بہت جلد اس کے نتائج نظر آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو خاتون تیسرے سی سیکشن کے بعد آئے، اس کی ٹی ایل کر دینی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود نہیں، اس لیے اس میں بہتری کے لیے پیدائشی اسٹیشن سینٹرز بنائے جا رہے ہیں۔

وزیر جامعات و بورڈ اسماعیل راؤ نے سمٹ کے انعقاد پر پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، اعلیٰ تعلیمی اداروں کا مقصد صرف ڈگریاں دینا نہیں بلکہ نوجوانوں میں تولیدی صحت، ذمہ دارانہ فیصلوں اور صحت سے متعلق آگاہی کا شعور بھی اجاگر کرنا ہے۔

وائس چانسلر جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور چیف پیٹرن پروفیسر امجد سراج میمن نے مردانہ مانع حمل طریقہ کار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبادی پر قابو پانے کے لیے ویزیکٹومی ایک اہم ذریعہ ہے، اس حوالے سے آگاہی اور تمام اسپتالوں میں سہولیات کی دستیابی یقینی بنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں ویزیکٹومی کے کیسز 2021 میں 24 سے بڑھ کر 2025 میں 4 ہزار سے تجاوز کرگئے ہیں، جس رجحان کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

چیف آرگنائزر پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ، پرو وائس چانسلر جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور سربراہ شعبہ امراض نسواں وارڈ 9-B، جے پی ایم سی نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں سالانہ تقریباً 60 لاکھ افراد کا اضافہ ہورہا ہے، جبکہ مانع حمل طریقوں کا استعمال صرف 34 فیصد ہے اور 17.8 فیصد افراد کی خاندانی منصوبہ بندی کی ضروریات پوری نہیں ہورہیں۔

انہوں نے کہا کہ سمٹ کا مقصد نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل ذرائع اور درست معلومات سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ اپنی صحت اور مستقبل سے متعلق باخبر اور ذمہ دارانہ فیصلے کرسکیں۔سمٹ میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر ڈاکٹر خالد شیر سمیت دیگر ماہرین، محققین اور پالیسی سازوں نے بھی شرکت کی۔

مقررین نے زچہ و بچہ کی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی میں توازن کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا شرکاء نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں ہر 45 منٹ بعد حمل اور زچگی سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث ایک خاتون کی موت کا مسئلہ انتہائی تشویشناک ہے، جس سے نمٹنے کے لیے بروقت طبی امداد، محفوظ زچگی، خاندانی منصوبہ بندی اور بنیادی صحت کی سہولیات تک آسان رسائی کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔

سمٹ میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ’’ماں رہے سلامت‘‘ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ پاکستان کے بہتر عوامی صحت کے مستقبل کے لیے ایک مستقل اور متحد قومی ترجیح بننا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی