کراچی؛ بند گھر سے 70 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے طلائی زیوارت اور نقدی چوری
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2025 GMT
کراچی:
لائنز ایریا میں بند گھر سے چور 70 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے طلائی زیوارت اور نقدی چوری کر کے لے گئے، واقعے کے وقت گھر والے شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے۔
تفصیلات کے مطابق بریگیڈ کے علاقے لائنز ایریا ٹونیشیا لائن سابقہ میکرو سپر اسٹور کے عقب والی گلی واٹر گراؤنڈ کے سامنے والے گھر سے ڈاکو 70 لاکھ روپے مالیت کے طلائی زیورات اور نقد رقم چوری کر کے لے گئے۔
پولیس اور فارنزک ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور شواہد اکھٹے کیے۔
گھر کے مالک شجاع الدین کے بیٹے سلمان نے بتایا کہ ان کے گھر کے قریب رہائش پذیر کزن کی شادی کی تقریب تھی جس میں شرکت کے لیے رات تقریباً 10 بجے تمام گھر والے گھر کو تالا لگا کر گئے تھے۔ رات ڈیڑھ بجے جب شادی کی تقریب سے واپس آئے تو گھر اور اندر موجود تمام الماریوں کے تالے ٹوٹے ہوئے تھے، دیکھنے پر معلوم ہوا کہ الماریوں کی تجوری میں رکھے طلائی زیورات، نقد رقم اور دیگر قیمتی سامان غائب تھا۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً 16 تولے کے طلائی زیورات، 32 لاکھ روپے نقدی اور دیگر سامان گھر سے غائب ہے جبکہ مزید دیکھنے پر معلوم ہوگا کہ کیا کیا سامان چوری ہوا ہے۔
گھر کے مالک کے بیٹے نے بتایا کہ رقم اور طلائی زیورات بینک کے لاکرز میں رکھے ہوئے تھے تاہم انہوں نے گھر خریدنے کے لیے رکھی رقم اور طلائی زیورات لاکرز سے نکالے تھے، دو تین دن میں نئے گھر کے پیسے ادا کرنے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی باضابطہ رپورٹ درج نہیں کروائی گئی، رپورٹ درج کرانے پر مقدمہ درج کر کے واقعے کی تفتیش کی جائے گی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل طلائی زیورات لاکھ روپے کے طلائی گھر سے گھر کے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔