تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ 190 ملین پاؤنڈ کا تھا، عطا اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2025 GMT
لاہور: وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دنیا کے کرپٹ لیڈر ثابت ہو گئے، دنیا نے بانی کا اصل چہرہ دیکھ لیا، وہ کرپٹ لیڈر ہیں، تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ 190 ملین پاؤنڈ کا تھا۔
عطا اللہ تارڑ نے حلقہ این اے 127 کی یونین کونسل 238 کے دورے کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ ہائی کورٹ ممیں کیس پر اپیل میں جائیں گے تو یہ جہاں مرضی جائیں، ان کے پاس 190 ملین پائونڈ کا جواب نہیں ہے پیسہ اپنی جیبوں میں ڈالا گیا 25 کروڑ کا گھر بنایا ہیرے کی انگوٹھیاں لی گئیں، عدالتی فیصلے نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے کرپٹ ہونے پر مہر ثبت کر دی۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ بند لفافے کی منظوری کر کے اربوں روپے کی کرپشن کی گئی، جرم چھپانے کیلیے مذہب کارڈ کا استعمال کیا جا رہا ہے، پی ٹی آئی کے پاس 190 ملین کرپشن کا حساب نہیں۔ میں پوری پی ٹی آئی کو چیلنج کرتا ہوں کیا 190 ملین کیس میں رقم این سی اے نے پاکستان کو نہیں دی؟ بند لفافہ خان صاحب نے کھولنے نہیں دیا جبکہ وفاقی وزراء نے کھولنے کا کہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کرپشن میں پکڑا گیا ہے، پوری دنیا نے اس کی کرپشن دیکھ لی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کیلیے کام کر رہے ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ مہنگائی میں کمی ہوئی ہے، عالمی سطح پر پاکستان کی معیشت کا اعتراف کیا جا رہا ہے، پوری دنیا پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ تعریف کر رہی ہے، ملک میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے 4 فیصد پر آگئی۔
انہوں نے کہا کہ مجرم اور حواریوں کو سزا ہوئی ہے، برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے پاکستان کو پیسہ واپس کیا تو اپنی جیبوں میں پیسہ ڈال لیا، ڈکیتی کے بعد کہتے ہیں ہم نے تو یونیورسٹی میں سیرت النبی کی تعلیم دی، بتائیں تو سہی کون سا عالم وہاں دینی تعلیم دے رہا ہے؟
عطا اللہ تارڑ وزیر نے کہا کہ یہ تو مذہب کارڈ استعمال کرکے مذہب کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں، اب تم پر مہر لگ چکی ہمیشہ ڈاکو رہو گے، ملک میں تقسیم کرکے سیاست زہر آلود کیا۔
انہوں نے حلقے کے عوام سے خطاب میں کہا کہ اس علاقے میں گیس کا مسئلہ ہے، اسے حل کریں گے، عوام سے جو الیکشن میں وعدے کیے، ان وعدوں کو پورا کرنے آئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عطا اللہ تارڑ پی ٹی ا ئی نے کہا کہ رہا ہے
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.