ریلوے کی نجکاری کے خلاف پریم یونین کی احتجاجی تحریک
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
ریلوے پریم یونین کے کارکنان شدید سردی اور برفباری کے دوران چمن بارڈر، شیلا باغ اور دالبندین ریلوے اسٹیشن پر ریلوے کی نجکاری کے خلاف احتجاج کررہے ہیں
ریلوے پریم یونین نے حکومت کی طرف سے ریلوے کی نجکاری کے متوقع فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف ’’ریلوے کی نجکاری، ملک سے غداری‘‘ کے سلوگن کے تحت بھرپواحتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کردیا۔ اس امرکافیصلہ پریم یونین کے اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس میں کیاگی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پریم یونین کے چیئرمین ضیاء الدین انصاری، صدر شیخ محمد انور، سیکرٹری جنرل خیر محمد تونیو، سینئر نائب صدرعبدالقیوم اعوان، چیف آرگنائزر خالد محمود چوہدری نے کہا ہے کہ پہلے مرحلے میں ملک بھر میں پوسٹرز اور ہینڈ بل کے ذریعے ریلوے ملازمین اور عام پاکستانی شہری کو آگاہی اور منظم کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریلوے کو تباہ کرنے کی سازش کی جارہی ہے، منظم سازش کے تحت ریلوے کو بھی اسٹیل مل اور پی آئی اے بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں، وزارت ریلوے کی نااہلی کی وجہ سے ریلوے انتظامیہ حکومت کو ریلوے کاکیس صحیح طریقہ سے پیش نہیں کرسکی جس کی وجہ سے حکومت نے ریلوے کو نان ایسینشل کیٹگری میں ڈال دیا ہے۔ وزیر اعظم سے اپیل ہے اس فیصلہ پردوبارہ نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ ریلوے کی کھربوں روپے کے اثاثہ جات کو لوٹنے کی تیاری کی جارہی ہے، ریلوے قومی وحدت کا ادارہ ہے۔ گزشتہ مالی سال کے اختتام پر ریلوے نے 88 ارب سے زائد ریکارڈ آمدن حاصل کی ہے جو پچھلے مالی سال سے 40 فیصد زائدآمدن ہے۔ ریلوے کو مالی سال کے آغاز میں حکومت سے 73 ارب آمدن کا ٹارگٹ ملا تھا۔ اتنے منافع بخش ادارے کی نجکاری ملک کی سا لمیت کے خلاف سازش ہے۔ رہنماؤں نے کہاکہ پاکستان کے سب سے بڑے رفاعی و فلاحی ادارے کی نجکاری ملک و قوم سے غداری کے مترادف ہے، کسی مائی کے لال کو ریلوے کی نجکاری کی اجازت نہیں دیں گے، ایک لاکھ ریلوے ملازمین اور 25 کروڑ عوام کی سستی سواری کی نجکاری کرکے عوام کو ذہنی اذیت سے دو چار کیا جارہا ہے، ملازمین ریلوے کو بچانے کے لیے اپنا خون بہا دیں گے مگر کسی کو بھی نجکاری کے نام پر ریلوے کی لوٹ مار کی اجازت نہیں دیں گے۔ پریم یونین نے حافظ سلمان بٹ مرحوم کی قیادت میں ریلوے ملازمین کے حقوق کی جس جدوجہد کا آغاز کیا تھا اسے ہر حالت میں جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ریلوے کو پرائیویٹائز کرنے کے بجائے مزدورروں کے حوالے کردیا جائے، کسی بھی پرائیویٹ کمپنی سے زیادہ منافع فراہم کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ نئے پنشن اور گریجوٹی کے قانون کو ختم کرکے پرانانظام ہی بحال کیاجائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ریلوے کی نجکاری پریم یونین نجکاری کے انہوں نے نے کہاکہ ریلوے کو کے خلاف
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
پشاور (نیوز ڈیسک) سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی، پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی سرکاری پنشنرز کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
حکومتی اعلامیے میں کہا گیا کہ پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا اور اس سے تمام صوبائی سرکاری پنشنرز مستفید ہو سکیں گے۔
محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں پنشن میں اضافے کے حوالے سے اہم نکات اور شرائط واضح کی گئی ہیں۔
جس میں کہا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ 30 جون 2026 تک حاصل کردہ نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا اور یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے کے حقدار ہوں گے۔
یہ اضافہ فیملی پنشن اور کمپیشنٹ الاؤنس کے کیسز پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم صوبائی حکومت کے اہل پنشنرز بھی مقررہ شرائط و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ پہلے سے ملنے والی کسی بھی “خصوصی اضافی پنشن” پر لاگو نہیں ہوگا۔
خیبرپختونخوا حکومت کے اس اقدام کو صوبے کے لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے خاندانوں کے لیے موجودہ معاشی صورتحال میں ایک بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے