سینٹ نے پارلیمنٹیرنزکو حکومتی افسران اورآئینی اداروں کے سربرہان سے کم درجہ ملنے کے معاملے کو کمیٹی کے سپرد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 25 جولائی2025ء) ایوان بالا نے پارلیمنٹیرنزکو حکومتی افسران اور آئینی اداروں کے سربرہان سے کم درجہ ملنے کے معاملے کو کمیٹی کے سپرد کردیا۔
(جاری ہے)
جمعہ کو ایوان بالا میں سینیٹر انوشہ رحمن نے ضمنی سوال کرتے ہوئے کہاکہ پارلیمنٹیرنز جو آئین بناتے ہیں ان سی59افسران کا استحقاق زیادہ ہے انہوں نے کہاکہ کس دن کیبنٹ ڈویڑن نے تمام پارلیمنٹیرنز کو تقریب میں بلایا ہے انہوں نے کہاکہ یہ اختیار کس کے پاس ہے کہ پارلیمنٹیرینز کا درجہ 60ویں نمبر پر ہے جس پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہد ری نے کہاکہ یہ معاملہ بہت پرانا ہے اور اس کیلئے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو دوبارہ غور کر رہی ہے یہ کمیٹی 2020میں بنی ہے اس کی سفارشات جلد ہی پیش کردی جائے گی اس موقع پر پریذائیڈنگ آفیسر سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہاکہ یہ سوال اطمینان بخش نہیں ہے کیونکہ اس کمیٹی میں پارلیمنٹیرنز کی کوئی نمائندگی نہیں ہے انہوں نے کہاکہ یہ سوال بہت اہم ہے جبکہ حکومت کے پاس اس کا تسلی بخش جواب نہیں ہے اس معاملے کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کرتا ہوں۔
۔۔۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے کہاکہ یہ
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔