اسلام آباد (خبر نگار+ نوائے وقت رپورٹ) مخبر کے تحفظ اور نگرانی کے لیے کمشن کے قیام  اور پاکستان نیوی آرڈیننس ترمیمی بلز ایوان بالا سینٹ نے منظور کر لیے۔ مخبر تحفظ بل میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی فرد، ادارہ یا ایجنسی کمشن کے سامنے معلومات پیش کرسکتا ہے، مخبر ڈکلیئریشن دے گا کہ اس کی معلومات درست ہیں، معلومات کو دستاویزات اور مواد کے ساتھ تحریر کیا جائے گا۔ بل کے مطابق اگر مخبر اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتا اور جعلی شناخت دے تو کمشن اس کی معلومات پر ایکشن نہیں لے گا، اگر مخبر کی معلومات پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کے خلاف ہو تو وہ نہیں لی جائے گی۔ بل کے مطابق اس شخص سے معلومات نہیں لی جائے گی جو اس کے پاس بطور امانت ہو، وہ معلومات نہیں لی جائے گی جو کسی غیر ملک نے خفیہ طور پر دی ہو، وہ معلومات نہیں لی جائے گی۔ وہ معلومات نہیں لی جائے گی جو کسی شخص کی زندگی کو خطرے میں ڈالے، وہ معلومات نہیں لی جائے گی جو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اعتماد میں دی ہو، وہ معلومات نہیں لی جائے گی جو عوامی مفاد میں نہیں اور کسی نجی زندگی میں مداخلت ڈالے۔ پاکستان نیوی آرڈیننس میں ترمیمی بل کے مطابق صدر مملکت پاکستان نیوی اور اس کے ریزروز کو بڑھا سکیں گے۔ نیوی کا کنٹرول اور کمانڈ وفاقی حکومت کے پاس ہو گی۔ نیوی کا انتظام چیف آف نیول سٹاف کو  تفویض ہوگا۔ بحری جہازوں کے ساتھ ہوائی جہازوں کو بھی نیوی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ جو شخص پاکستان کا شہری  نہیں دوہری شہریت یا 18 سال سے کم ہو نیوی میں کمشن حاصل  نہیں کر سکتا۔ جمعرات کو وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے وسل بلور پروٹیکشن کمیشن کے قیام کا بل پیش کیا۔ اس موقع پر چیئرمین سینٹ نے بل پر اراکین سے شق وار رائے لینے کے بعد بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ ایوان بالا میں پاکستان نیوی آرڈیننس ترمیمی بل متفقہ طور پر منظور کر لیا، بل وفاقی وزیر پارلیمانی امو رڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پیش کیا۔ ایوان بالا کو وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بتایا ہے کہ نیپرا کی جانب سے کے الیکٹرک کو دی جانے والی ریلیف کے حوالے سے اپیل دائر کی ہے اور اگر شنوائی ہوئی تو صارفین کو 650ارب روپے کا فائدہ ہوگا۔ جمعرات کو ایوان بالا میں ایم کیو ایم کے سینیٹر سید فیصل سبزواری نے کہا کہ نیپرا نے کے الیکٹرک کو 7سالوں کے دوران 325 ارب روپے بقایا جات وصول کرنے کی اجازت دی ہے اور یہ رقم ان لوگوں سے لئے جائیں گے جو پہلے ہی بجلی کے بل دے رہے ہیں۔  اس موقع پر وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہاکہ جو بھی میڈیا میں آیا ہے وہ ابھی تک آفیشل نہیں ہے اور جب بھی یہ سرکاری طور پر آئے گا تو اس پر ہم جواب دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ یہ گذشتہ سال کی رپورٹ ہے۔ ہم نے ایک سال میں 585ارب روپے کے نقصان کو کم کیا ہے اور ہم نے اسی سال میں اوور بلنگ کی مد میں لوگوں کو 100ارب روپے واپس کئے ہیں۔ ایوان بالا میں بلوچستان میں غیرت کے نام پر ایک مرد اور خاتون کو قتل کرنے کے حوالے سے مذمتی قرارداد متفقہ طور پر  منظور کر لی۔ قرارداد سینیٹر شیری رحمن نے پیش کی۔ اس موقع پر سینیٹر شیری رحمن نے کہاکہ پورے ملک میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے، اس پر ایوان میں بحث ضروری ہے۔ اس موقع پر ایوان نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ ایوان بالا میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ تین آزاد اراکین نے حلف اٹھا لیا۔ چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ تین آزاد اراکین فیصل جاوید، مرزا آفریدی اور مولانا نورالحق قادری نے حلف لیا۔ اس موقع پر اراکین نے ممبران کے رجسٹرڈ پر دستخط کئے۔ سینیٹر فیصل جاوید اور سینیٹر نور الحق قادری نے بانی پی ٹی آئی کے رہائی کے نعرے لگائے جبکہ مرزا محمد آفریدی نے نعرے لگانے کی بجائے وکٹری کا نشان بنایا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے نومنتخب سینیٹر طلحہ محمود اور سینیٹر روبینہ خالد سمیت مسلم لیگ ن کے سینیٹر نیاز احمد نے حلف اٹھا لیا۔ سید یوسف رضا گیلانی نے اراکین سے حلف لیا جس کے بعد اراکین نے ممبران کے رجسٹرڈ پر دستخط کئے۔ چیرمین سینٹ سمیت دیگر اراکین نے حلف اٹھانے والے سینیٹرز کو مبارکباد پیش کی۔ وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ پوری دنیا میں نان فائلر نہیں ہے مگر پاکستان میں موجود ہے۔ ہم کیوں نان فائلر کو فائلر نہ بنا سکے ہیں۔ جس پر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہاکہ مستقبل میں نان فائلر کی کوئی کیٹگری نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم ہم زمینی حقائق کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے نان فائلرز کیلئے کچھ دشواریاں رکھی ہیں اور آہستہ آہستہ نان فائلرز کی کیٹگری کو ختم کردیںگے۔  سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ ہمارا المیہ ہے کہ بیوروکریسی سے جو جواب ملتا ہے وہ ہم یہاں  بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کا تاجر دوست سکیم مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ ملک میں 7ملین سے زائد ریٹیلرز ہیں جس میں 5ملین سے زائد بڑے ریٹیلرز ہیں۔ ان میں صرف 2لاکھ 80ہزار کی رجسٹریشن بہت کم ہے۔ سینیٹر محمد عبدالقادر نے ضمنی سوال کرتے ہوئے کہاکہ ایف بی آر سے ریفنڈ لینا بہت مشکل کام ہے تاہم جواب میں لکھا گیا ہے کہ تمام ریفنڈ ادا کردئیے گئے ہیں۔ جس پر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہاکہ جواب میں صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ جس ریفنڈ کی بھی تصدیق ہوئی ہے وہ ادا کردئیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گذشتہ سال 364ارب روپے ریفنڈ کی مد میں ادا کئے گئے ہیں۔ ایوان بالا کو وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے بتایا ہے کہ ایف سی کی ری سٹرکچرنگ کا مقصد اس کو دیگر فورسز کے برابر لانا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایف سی کے 25ہزار جوانوں میں کوئی کمی نہیں کی جارہی ہے تاہم 39سو جوانوں پر مشتمل نئی ڈویژن بنائی جائے گی۔ اے این پی، پی ٹی آئی، جے یوآئی اور دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے توجہ دلائو نوٹس پر بات کرتے ہوئے سینیٹر ایمل ولی خان نے کہاکہ پاکستان کے ہر فیڈریشن میں دو قسم کے فورسز ہیں ایک صوبائی اور دوسرا وفاقی فورس ہے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب اور سندھ میں پولیس کے ساتھ رینجرز وفاقی فورس ہے جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں پولیس کے ساتھ ایف سی کی وفاقی فورس تھی مگر وفاق نے ایف سی پر شب خون مارا ہے۔ ایف سی کی بھرتی اسی طرح ہوگی جبکہ ان کی مراعات دیگر فورسز کی طرح ہوگی اس میں ایک اور ڈویژن بنایا جارہا ہے جس میں 4ہزار ریزرو ڈویژن بنایا جائے گا جس میں 25فیصد کوٹہ خیبر پختونخوا کا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ 39سو کی بھرتی ریزرو ڈویژن کے طور پر ہوگی جس کا موجودہ فورس پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔  سینیٹر ایمل ولی خان نے کہاکہ ایف سی کوئی صوبائی فورس نہیں تھی اور ان کو مراعات نہ دینا وفاق کی غلطی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب اتنی اچھی فورس ہے تو یہ 39سو افراد بھی خیبر پختونخوا سے کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ جو بھی پیکیج دینا ہے تو دیدیں۔ اس حوالے سے صدارتی آرڈیننس کیوں لائے جارے ہیں۔ اگر حکومت نیک نیت ہے تو اس حوالے سے اسمبلی میںقانون لایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ اس معاملے کو کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہاکہ یہ آرڈیننس اس ایوان میں آئے گا اور کمیٹیوں میں جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ایف سی میں نئی ڈویژن پورے ملک سے بھرتی ہوگی۔ بعدازاں اجلاس جمعہ (آج) دن ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وزیر مملکت برائے انہوں نے کہاکہ ایوان بالا میں پاکستان نیوی متفقہ طور پر منظور کر لی اراکین نے نان فائلر کہاکہ ایف پی ٹی آئی کہ ایف سی حوالے سے کے ساتھ نے حلف پیش کی ہے اور

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا