Al Qamar Online:
2026-07-24@15:30:14 GMT

میلانیا ٹرمپ: خاتونِ اول کی حیثیت سے وائٹ ہاؤس میں واپسی

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT

میلانیا ٹرمپ: خاتونِ اول کی حیثیت سے وائٹ ہاؤس میں واپسی

ویب ڈیسک — 

امریکی خاتون اول بننے والی میلانیا ٹرمپ سنہ دو ہزار سولہ میں اپنے شوہر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلی بار صدر بننے کے بعد لائیم لائیٹ میں آئیں۔ اب وہ ایک بار پھر وائٹ ہاؤس پہنچنے والی ہیں۔۔ کچھ جانتے ہیں میلانیا ٹرمپ کی زندگی اور کیرئیرکے بارے میں، اور یہ کہ ان سے وابستہ امریکی عوام کی توقعات کیا ہیں۔

شادی سے پہلے میلانیا کا نام Melanija Knavs تھا ۔۔ابدنیا انہیں سابق امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کے نام سے جانتی ہے ۔۔ان کی پیدائش چھبیس اپریل 1970 کویورپی ملک سلووینیا کے شہر نوو مستو شہر میں ہوئی۔ ان کے والد سیونیچا نامی قصبے میں گاڑیاں بیچتے تھے جبکہ ان کی ماں ٹیکسٹائیل انڈسٹری میں کام کرتی تھیں ۔۔

میلانیا کی اسکول کی ساتھی مریاناکہتی ہیں کہ میلانیا کی دلچسپی فیشن میں تھی۔”انہیں ڈیزائیننگ کرنا بھی پسند تھا وہ پرانے کپڑوں سے نئے کپڑے بناتی تھیں۔”

میلانیا نے کالج میں ڈیزائین کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں، پھر انہوں نے اسے روک کر میلانیا Knauss کے نام سے یورپ میں ماڈلنگ کرنا شروع کر دی ۔۔انیس سو نوے کی دہائی میں ان کی کامیابی انہیں امریکہ لے آئی۔

میلینیا ٹرمپ۔ فائل فوٹو

اوہائیو یونیورسٹی کی کیتھرین جیلیسن کہتی ہیں،ایک فیشن ماڈل کے طور پر اور ایک ایسی شخصیت کی حیثیت سے انہیں نیو یارک میں اکثر اونچے طبقے کی پارٹیوں میں مدعو کیا جاتا تھا، میرے خیال سے وہیں ان کی ملاقات ڈونلڈ ٹرمپ سے ہوئی

بائیس جنوری دو ہزار بائیس کو وہ میلانیا ٹرمپ بنیں۔ ایک سال بعد ان کا اور ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا اور اکلوتا بیٹا، بیرن، پیدا ہوا۔ اسی سال وہ امریکی شہری بھی بن گئیں۔

میلانیا ٹرمپ کی زندگی نے اس وقت ایک مختلف موڑ لیا جب ان کے شوہر نے ریپلیکن پارٹی کے ٹکٹ پر دو ہزار سولہ کا صدارتی انتخاب لڑا، اور کامیابی حاصل کی۔

امریکہ کے 45 ویں صدر کے طور پرڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری 2017 کوحلف اٹھا رہے ہیں، ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا اور ان کا بیٹا بیرن ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ فوٹو رائٹرز

میلانیا نے اپنے شوہر کے بارے میں کہا،”مجھے ان پر انتہائی فخر ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری دو ہزار سترہ میں پینتالیسویں امریکی صدر کا حلف اٹھایاتھا۔ خاتون اول کی حیثیت سے میلانیا ٹرمپ نے دنیا کے متعدد ملکوں کا دورہ کیا۔

انہوں نے ’بی بیسٹ کمپین‘ جیسے پراجیکٹز پر کام کیا جس کا مقصد بچوں کی فلاح ، آن لائین سیفٹی اور منشیات کے مسئلے سے نمٹنا تھا۔ اگرچہ دیگر فرسٹ لیڈیز کے مقابلے میں انہوں نے خود کو زیادہ نمایاں نہیں کیا پھر بھی انہیں میڈیا کی سخت جانچ پڑتال کا سامنا رہا۔

اوہائیو یونیورسٹی کی کیتھرین جیلیسن کہتی ہیں، "کچھ حلقوں میں ان پر ، ان کے فیشن کے انتخاب، فوری طور پر وائٹ ہاؤس منتقل نہ ہونے کے فیصلے اور ان کی ‘بی بیسٹ’ مہم کے امریکی فرسٹ لیڈیز کی کامیاب ترین کیمپینز میں سے ایک نہ ہونے پر تنقید ہوئی۔”

امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کو 7 مئی 2018 کو واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں انکے Be Best beginning اقدام کے آغازپر صدر ڈونلڈ ٹرمپ انہیں خوش آمدید کہ رہے ہیں۔ فوٹو رائٹرز۔۔

وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد میلانیا ٹرمپ عملی طور پر عوام کی نظروں سے اوجھل ہو گئیں۔ کبھی کبھار وہ اپنے شوہر کی 2024 کی صدارتی مہم اور اپنی یادداشت کی پروموشن کے لیے عوام کے سامنے آتی رہیں۔

میلانا اس یاد داشت کے بارے میں کہتی ہیں۔

"اس یاد داشت کو لکھنا میرے لیے ذاتی طور پر انتہائی گہرا اور اپنے بارے میں سوچنے کا تجربہ تھا۔”

میلانیا ٹرمپ، گھانا کے دورے پر۔ 2 اکتوبر، 2018 فوٹو رائٹرز

وسکانسن کے ووٹر آسٹن سمتھ نے دو ہزار سولہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا ۔۔انہوں نے میلانیا ٹرمپ کی وہائٹ ہاوس میں واپسی کے لیے اپنی امیدوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں چاہوں گا کہ وہ چند پسندیدہ پراجیکٹز پر کام کریں ۔ ایک چیز جس کے لیے میں بہت پُر جوش ہوں وہ اسکولوں میں فراہم کیے جانے والے کے لنچ کا ہے۔

ڈیموکریٹک ووٹر جسلین کور چاہتی ہیں کہ میلانیا ٹرمپ ، بقول ان کے ایک بااثرخاتون اول بنیں ۔

"وہ باہر جاکر شہروں میں کمیونٹیز سے بات کریں ، ملک بھرکا دورہ کریں اور خوداپنی پہچان بنائیں۔”

انہوں نے زور دیا کہ صرف ایسی شخصئیت کے طور پر نہیں جو کہ صدر کے پیچھے کھڑی ہو بلکہ ایک ایسی عورت کے طور پر جس کی اپنی کوئی طاقت ہو۔۔

تاہم تجزیہ کارکیتھرین جیلیسن سمجھتی ہیں کہ میلانیا ٹرمپ، دوسری مدت صدارت میں بھی ایک خاتون اول کے طور پر لائیم لائیٹ سے زیادہ تر دور ہی رہیں گی

وائس آف امریکہ کی ورونیکا بالڈراس کی رپورٹ

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل میلانیا ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے طور پر انہوں نے ٹرمپ کی

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل