اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔20 جنوری ۔2025 )پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز ( پی آئی اے) کو تکنیکی عملے کی کمی کا سامنا ہے ایک سال کے دوران 110 ائیرکرافٹ انجینئرز اور ٹیکنیشنز مستعفی ہوگئے استعفیٰ دینے والوں میں 45 انجینئرز اور 65 ٹیکنیشنز شامل ہیں.

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کو تکنیکی عملے کی کمی کا سامنا ہے ایک سال کے دوران 110 ایئرکرافٹ انجینئرز اور ٹیکنیشن مستعفی ہوگئے استعفیٰ دینے والوں میں 45 انجینئرز اور 65 ٹیکنیشنز شامل ہیں جبکہ مزید 40 ایئرکرافٹ انجینئرز اور ٹیکنیشنز کے استعفے زیر التوا ہیں.

طیاروں کی مرمت پر حاضر ائیرکرافٹ انجنیئرز اور ٹیکشنینز کا کام دگنا ہوگیا پی آئی اے کے مطابق انجینئرز اور ٹیکنیشنز کی یہ تعداد گزشتہ دو سال کے دوران چھوڑ کر گئی ہے جس کی وجہ بیرون ملک ہوابازی کی صنعت میں تجربہ کار افراد کی مانگ میں اضافہ ہے پی آئی اے کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی مناسبت سے گزشتہ کئی سالوں سے تنخواہ میں اضافہ نا ہونے کا انتظامیہ کو ادراک ہے تنخواہوں میں اضافے کے لیے انتظامیہ حکومت اور بورڈ سے منظوری کے لیے کوشاں ہے.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انجینئرز اور ٹیکنیشنز سال کے دوران پی آئی اے

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے
  • جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر مسافر آف لوڈ
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان