وزیراعظم شہباز شریف کی قومی اسمبلی آمد، پی ٹی آئی اراکین کا اووو اووو کرکے احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی کے اجلاس میں پہنچے تو اپوزیشن کی جانب سے نعرے بازی اور احتجاج کیا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کی جانب سے اووو اووو کی صدائیں بلند کرتے ہوئے احتجاج کیا گیا جبکہ بانی پی ٹی آئی کے حق میں اور رہائی کے لیے بھی نعرے بازی کی گئی۔
مزید پڑھیں: سینیٹ اجلاس: احسن اقبال کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی ارکان کا ’اووو‘ کی آواز میں احتجاج
اپوزیشن ارکان کی جانب سے کون آیا کون آیا، چور آیا چور آیا کے نعرے بھی لگائے گئے جبکہ حکومتی ارکان کی جانب سے دیکھو دیکھو کون آیا، شیر آیا شیر آیا کے جوابی نعرے لگائے گئے۔ اس شور شرابے میں اسپیکر ایاز صادق کی بات بھی نہ سنی گئی۔
مزید پڑھیں: قومی اسمبلی: پاکستان تحریک انصاف کا ’اووو‘ کی آواز میں احتجاج، ایوان سے واک آؤٹ
حکومتی ارکان وزیراعظم شہباز شریف کی نشست کے قریب اور اپوزیشن بینچوں کے درمیان کھڑے ہوگئے۔ حکومتی ارکان وزیر اعظم سے مصافحہ بھی کرتے رہے جبکہ خواتین حکومتی ارکان نے وزیراعظم کی نشست پر جاکر ان سے خیریت دریافت کی۔ اپوزیشن ارکان نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حق میں کتبے بھی اٹھا رکھے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اوووو پی ٹی آئی شہباز شریف قومی اسمبلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اوووو پی ٹی ا ئی شہباز شریف قومی اسمبلی حکومتی ارکان قومی اسمبلی شہباز شریف کی جانب سے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔