قتل کا اشتہاری ملزم عمان ائیر پورٹ سے گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2025 GMT
فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی ( ایف آئی اے) اور این سی بی انٹرپول نے کارروائی کرتے ہوئے قتل کے اشتہاری ملزم کو عمان سے گرفتار کرلیا۔
ایف آئی اے گوجرانوالہ کے مطابق عمان سے گرفتار قتل کے اشتہاری ملزم کی شناخت فاران ملک کے نام سے ہوئی۔ ملزم کو عمان ائیرپورٹ سے گرفتار کرکے سیالکوٹ ائیرپورٹ منتقل کیا گیا۔
آئی اے این سی بی انٹرپول نے ملزم کی گرفتاری کے لیے ریڈ نوٹس جاری کیا تھا۔ گرفتار ملزم تھانہ صدر پسرور کو اقدام قتل کے مقدمے میں مطلوب تھا۔ ملزم گزشتہ ایک سال سے بیرون ملک فرار تھا۔ ایف آئی اے امیگریشن سیالکوٹ نے ملزم کو پنجاب پولیس کے حوالے کردیا۔ ملزم کی حوالگی انٹرپول اسلام آباد اور انٹرپول مسقط کے درمیان قریبی رابطہ کاری کے باعث ممکن ہوئی۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ این سی بی انٹرپول 24 گھنٹے پوری دنیا کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف آئی اے سے گرفتار
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک