اپوزیشن نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل پر تحفظات کا اظہار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2025 GMT
اسلام آباد:اپوزیشن نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل پر تحفظات کا اظہار کردیا،اپوزیشن لیڈر نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل پر اختلافی نوٹ بھجوادیا ۔
عمرایوب نے چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو خط لکھ دیا،اپوزیشن لیڈر کے خط کے متن میں کہا گیا کہ جمع شدہ ڈیٹا کا تحفظ کون اور کیسے کرے گا،ڈیٹا تحفط بل کے قانون کے بغیر اس بل کو پاس نہیں ہونا چائیے،56 فیصد پاکستانیوں کی انٹر نیٹ تک رسائی نہیں، یہ بل اس تفریق کو مزید بڑھائے گا۔
خط میں کہا گیا کہ پاکستان ڈیجیٹل کمیشن اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی شہریوں کی آزادی کو سلب کرنے کا باعث بنیں گی،کمیشن کی تشکیل کے لئے میرٹ پرتعیناتی کو کون یقینی بنانےگا،پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی اور چئیرپرسن اتھارٹی کے اختیارات سے شہریوں کے حقوق کا تحفط نہیں رہے گا،یہ قانون پاکستان میں آزادی صحافت کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال ہوگا،اپوزیشن کے 6 ارکان نے قائمہ کمیٹی میں بل کی مخالفت کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔