کالے قوانین کیلئے اتنی جلد بازی،پیکا ترمیمی بل میں سزائیں بہت سخت ہیں، زرتاج گل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل کا کہنا ہے کہ پیکا ترمیمی بل میں سزائیں بہت سخت ہیں اور آدھا پاکستان پہلے ہی جیل میں ہے۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز کی صدارت میں ہواا۔زرتاج گل نے کہا یک دم اجلاس بلالیا گیا، کالے قوانین کیلئے اتنی جلد بازی کی جاتی ہے۔ پہلے حکومت نے فائر وال لگائی، اس سے کام نہیں بنا تواب بل لے آئے ہیں۔رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ حکومت جو کررہی ہے سوشل میڈیا پر کرتوت سامنے آتے ہیں، بل میں سزائیں بہت سخت ہیں۔آدھا پاکستان پہلے ہی جیل میں ہے۔
جمشید دستی نے کہا ہنگامی اجلاس بلانے کی کیا ضرورت تھی؟ ملک میں اس بل سے زیادہ دیگرمسائل چل رہے ہیں، کشتی حادثے پرایف آئی اے کیا کررہی ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے کو تواس پراستعفا دینا چاہیے۔بعد ازاں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے سوشل میڈیا پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے ترمیمی بل کی منظوری دے دی تاہم پی ٹی آئی نے واک آؤٹ کردیا۔
جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی دفاتر میں چوری کی واردات، جانیں تفصیل
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،