BANGKOK:

نیشنل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین کی سربراہی میں این ڈی ایم اے پاکستان کے وفد نے تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں ریجنل کنسلٹیٹیو کمیٹی (آر سی سی) کے 18 ویں اجلاس میں شرکت کی اور ادارے کے اقدامات سے فورم کو آگاہ کیا۔

این ڈی ایم اے سے جاری اعلامیے کے مطابق بنکاک میں آر سی سی کا دو روزہ اجلاس 23 سے 24 جنوری تک تھائی لیںڈ کی حکومت اور ایشین ڈیزاسٹر پرپیئرڈینس سینٹر (اے ڈی پی سی) کی میزبانی میں ہو رہا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ آر سی سی علاقائی فورم ہے جس کا مقصد ایشیا اور پیسفک ریجن میں آفات اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات میں کمی کے لیے مشاورت اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔

آر سی سی اجلاس میں رواں برس کا عنوان ‘مؤثر ترقیاتی اہداف کے لیے پائیدار پیش بندی اقدامات’ رکھا گیا ہے، جو این ڈی ایم اے پاکستان کے جدید ٹیکنالوجی اور نقصانات کم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کے ذریعے بروقت آفات کی پیش بندی کے طریقہ کار سے انتہائی ہم آہنگ ہے۔

چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے مالی میکنزم اور سرمایہ کاری-موسمیاتی تبدیلی، مؤثر دفاع کے لیے سرمایہ، ڈیزاسٹر رسک فنانس پر منعقدہ ٹیکنیکل سیشن میں کلیدی اسپیکر کی حیثیت سے شرکت کی۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے اپنے خطاب میں ایشیا پیسفک اور پاکستان میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، خراب موسم، خطے میں سوشیو اکنامک ترقی کے لیے خطرات کا باعث بننے والے پانی سے متعلق بحران سمیت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو اجاگر کیا۔

انہوں نے ڈی آر آر اور سی سی اے کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے والے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کے لیے درکار مالی وسائل کی فراہمی کے لیے مناسب مالی میکنیزم تیار کرنے پر زور دیا۔

این ڈی ایم اے پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو نمایاں کرتے ہوئے انہوں نے اسٹیٹ آف دی آرٹ اے آئی سے لیس نیشنل ایمرجنسیز آپریشنز سینٹر (نیوس)، دیگر ممالک کے ساتھ ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ہونے والے اشتراک، عالمی فنڈز تک رسائی کے لیے محکمہ جاری ترجیحات یکجا کرنے اور پاکستان میں ڈیزاسٹر اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے پیش بندی اقدامات کی اپروچ کے استعمال  کے ذریعے نمٹنے کی اپنی صلاحیت اور موافقت کی قابلیت سے کیے جانے والے کاموں پر روشنی ڈالی۔

آر سی سی کے اہم فورم کا قیام 2000 میں عمل میں لایا گیا تھا اور اب اے ڈی پی سی کے چارٹر کے تحت بنیادی جز بن  گیا ہے جو ایشیا اور پیسفک میں ڈیزاسٹر اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کا ازالہ کرنے کے لیے علاقائی مشاورت اور اشتراک کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • : نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • پاکستانی نژاد سعدیہ زاہدی عالمی ایئرلائنز تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف