بھارتی اداکارہ کنگنا رناوت کی نئی فلم ’ایمرجنسی‘، جو سابق وزیرِاعظم اندرا گاندھی کے 1975 کے ایمرجنسی دور پر مبنی ہے، برطانیہ میں شدید تنازع کا شکار ہو گئی ہے۔ 

اطلاعات کے مطابق، برطانیہ میں چند برطانوی سکھ گروپس اور دیگر عناصر نے فلم کو ’’اینٹی سکھ‘‘ قرار دے کر احتجاج کیا، جس کی وجہ سے فلم کی نمائش میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس صورتحال پر برطانیہ حکومت سے رابطے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’اظہارِ رائے کی آزادی منتخب طور پر لاگو نہیں کی جا سکتی۔ جو لوگ فلم کی نمائش میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں، انہیں جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔‘‘

رپورٹس کے مطابق، شمال مغربی لندن میں ماسک پہنے ہوئے افراد  نے ایک سنیما میں داخل ہو کر دھمکیاں دیں اور فلم کی اسکریننگ بند کروا دی۔ ہارو، وولور ہیمپٹن، برمنگھم، اور مانچسٹر میں بھی فلم کے شوز میں رکاوٹ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

برطانوی پارلیمنٹ کے رکن باب بلیک مین نے اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’میری برادری کے لوگوں کو حق ہے کہ وہ فلم دیکھ سکیں اور اپنی رائے بنا سکیں۔‘‘

بھارت میں بھی ’ایمرجنسی‘ کو سخت اعتراضات کا سامنا رہا۔ سکھ تنظیموں نے الزام عائد کیا کہ فلم میں سکھ کمیونٹی کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ کئی ماہ کی قانونی کشمکش اور سنسر بورڈ کے اعتراضات کے بعد، فلم کو نومبر 2024 میں چند کٹس کے ساتھ ریلیز کی منظوری دی گئی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔

دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔

اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔

کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں