وقف ترمیمی بل کو لیکر پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں ہنگامہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2025 GMT
اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بی جے پی کے رکن نشی کانت دوبے نے کہا کہ وقف بل کا مقصد مسلمانوں کی بہتری کیلئے ہے اور اسکے ذریعے وقف کے اداروں میں شفافیت لانا مقصود ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وقف ترمیمی بل پر قائم شدہ پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی (جے پی سی) کے اجلاس کے دوران ٹی ایم سی کے رکن کلیان بنرجی اور بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کے درمیان لفظی جنگ ہوئی، جس کے بعد کمیٹی کے 10 اپوزیشن ارکان کو ایک دن کے لئے معطل کر دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اجلاس میں ہنگامہ اس وقت ہوا جب کلیان بنرجی نے اجلاس کو اتنی جلدی بلانے پر سوال اٹھایا، جس پر نشی کانت دوبے نے سخت اعتراض کیا اور دونوں لیڈروں کے درمیان شدید تکرار شروع ہو گئی۔ اس کے بعد اجلاس کو کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ کلیان بنرجی کا کہنا تھا کہ اجلاس کی اتنی جلدی کیا ضرورت تھی۔
انہوں نے اس پر سوال اٹھایا کہ آیا اس بل پر جلدی فیصلے کی کوئی خاص وجہ ہے۔ ان کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے نشی کانت دوبے نے کہا کہ حکومت نے اس بل کو اہمیت دی ہے اور اس پر جلدی فیصلے کی ضرورت ہے۔ دونوں کے درمیان یہ بات چیت اتنی بڑھ گئی کہ دونوں کے درمیان لفظوں کا تبادلہ شدید ہوگیا اور اس کی وجہ سے اجلاس کو عارضی طور پر روکنا پڑا۔ جیسے ہی یہ تنازعہ بڑھا، کمیٹی نے اپوزیشن کے 10 ارکان کو معطل کر دیا، جنہوں نے اس بحث میں مداخلت کی تھی۔ ان ارکان کی معطلی نے اجلاس کی فضا کو مزید متنازعہ بنا دیا اور اجلاس کو 27 جنوری تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس اجلاس میں کشمیر کے مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق بھی اپنے اعتراضات پیش کرنے کے لئے کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ اس کے علاوہ کچھ مزید اہم شخصیات بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں گی، جن میں لائیرز فار جسٹس گروپ بھی شامل ہے۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بی جے پی کے رکن نشی کانت دوبے نے کہا کہ وقف بل کا مقصد مسلمانوں کی بہتری کے لئے ہے اور اس کے ذریعے وقف کے اداروں میں شفافیت لانا مقصود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کو جلد پاس کرنا ضروری ہے تاکہ وقف کے اداروں کے انتظام میں بہتری لائی جا سکے اور اس کے ذریعے ملک کے مسلمانوں کی فلاح کی جا سکے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے اس بل کی مخالفت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ بل مسلمانوں کے مفادات کے خلاف ہے اور اس کے ذریعے حکومت وقف کے اداروں پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس بل میں مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیئے اور اس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نشی کانت دوبے نے وقف کے اداروں کے درمیان ہے اور اس اجلاس کو کے ذریعے کا کہنا کے لئے کے بعد
پڑھیں:
مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 مخصوص نشستوں کے مستقبل اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبات پر غور کے لیے ریاست کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج مظفرآباد میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کو آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ فیصلوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سیاسی و مذہبی حلقوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات، خصوصاً مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟
آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے 12 نشستیں مختص ہیں۔ ان نشستوں پر بھی آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے ساتھ ہی ووٹنگ ہوتی ہے اور منتخب نمائندے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ان نشستوں کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت پیر کے روز اسلام آباد میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور موجودہ سیاسی ماحول پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال اور حالیہ مذاکراتی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق، اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے بھی وزیراعظم پاکستان کو ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔
واضح رہے کہ 30 مئی کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے 9 جون کے احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟
پیر کے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ممکنہ طویل احتجاج کے پیش نظر ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کر لیں، جبکہ 9 جون کو آزاد کشمیر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کی کال بھی دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ 2023 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت متعدد عوامی مطالبات کے لیے کامیاب احتجاجی تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کیے تھے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، جس کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔
آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے، جبکہ اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملات پر قائم کمیٹیاں اپنی سفارشات تیار کر رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ محض ایک انتظامی یا انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے، نمائندگی کے نظام اور آئینی توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود کو عوامی سطح پر مقبول سمجھتی ہے تو اسے انتخابی سیاست میں حصہ لے کر اپنی عوامی حمایت کو پارلیمانی طاقت میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی امور کو احتجاجی دباؤ کے بجائے جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جانا زیادہ مؤثر اور پائیدار راستہ ہے۔
سیاسی حلقوں کی نظریں اب آج ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف مہاجرین کی نشستوں بلکہ آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال اور 9 جون کے متوقع احتجاجی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر جوائنٹ کشمیر مہاجر نشستیں