اسلام آبا د(آن لائن،نمائندہ جسارت) ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ اور مراعات 5 لاکھ 19 ہزار کرنے کی منظوری۔وزیر اعظم کی منظوری کے بعد تنخواہوں میں اضافے کا معاملہ دونوں ایوانوں کی قائمہ کمیٹیوں میں بھیجا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی نے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی منظوری دیدی ہے اور اسپیکر قومی اسمبلی نے فنانس کمیٹی کی سفارشات وزیراعظم شہباز شریف کو بھجوا دی ہیں۔فنانس کمیٹی نے
این ایم ایز اور سینیٹرز کی ماہانہ تنخواہ اور مراعات وفاقی سیکرٹری کے برابر کرنے کی منظوری دی ، وزیر اعظم کی منظوری کے بعد تنخواہوں میں اضافے کا معاملہ دونوں ایوانوں کی قائمہ کمیٹیوں میں بھیجا جائے گا،وزیر اعظم کی منظوری کے بعد ہر ایم این ایز اور سینیٹر کو کٹوتیوں کے بعد 5 لاکھ 19 ہزار ماہانہ تنخواہ اور مراعات ملیں گے جبکہ ان کو دیگر سہولیات بھی وفاقی سیکرٹری کے برابر ملیں گی۔پارلیمانی ذرائع کے مطابق فنانس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت اسپیکر سردار ایاز صادق نے کی ، اسپیکر نے فنانس کمیٹی کی سفارشات وزیراعظم شہبازشریف کو بھجوا دیں ،پارلیمانی ذرائع کے مطابق فنانس کمیٹی کے اجلاس میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہ اور مراعات وفاقی سیکرٹری کے برابر کرنے کی سفارش کر دی گئی ،قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی نے 200 فیصد اضافے کی تجویز منظور کی ۔قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی نے متفقہ منظوری دے دی جس کے مطابق ہر ایم این اے اور سینیٹر کی ماہانہ تنخواہ و مراعات 5 لاکھ 19 ہزار مقرر کرنے کی منظوری دیدی گئی ،یاد رہے کہ پیپلز پارٹی ،ن لیگ سمیت دیگر جماعتیں تنخواہیں بڑھنے کے معاملے پر ہم آواز تھیں جبکہ تحریک انصاف کے 67 اراکین پارلیمنٹ نے بھی تحریری طور پر تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا ،ذرائع کے مطابق تمام تر کٹوتیوں کے بعد ایک وفاقی سیکرٹری کی تنخواہ اور الاؤنسز 5 لاکھ 19 ہزار ماہانہ ہے،اراکین پارلیمنٹ کو سہولیات بھی وفاقی سیکرٹری کے مساوی حاصل ہونگی ،اراکین پارلیمنٹ نے ایم این اے اور سینیٹر کی تنخواہ دس لاکھ ماہانہ کا مطالبہ کیا تھا تاہم اسپیکر ایاز صادق نے یہ مطالبہ مسترد کردیا تھا،ذرائع کے مطابق سینیٹ اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا بل پہلے پاس کرچکی ہے،بل میں تنخواہوں میں اضافے کا اختیار پارلیمانی فنانس کمیٹی کو دیا گیا تھا، فنانس کمیٹی کی سفارشات کے مطابق چیئرمین سینیٹ اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہیں بھی اسی تناسب سے بڑھیں گی ،حتمی منظوری وزیراعظم شہبازشریف دینگے ،ترجمان قومی اسمبلی نے بھی اضافے کی سفارشات کی تصدیق کردی۔اس وقت رکن پارلیمنٹ کی تنخواہ 2 لاکھ 18 ہزار روپے ہے، اسپیکر قومی اسمبلی نے یہ تنخواہ 5 لاکھ 19 ہزار روپے کرنے کی سفارش کی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم کی منظوری کے بعد تنخواہوں میں اضافے کا معاملہ دونوں ایوانوں کی متعلقہ قائمہ کمیٹیوں میں بھیجا جائے گا۔اسپیکر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کا کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ 16 دسمبر 2024 کو پنجاب اسمبلی میں عوامی نمائندگان کی تنخواہوں پر نظر ثانی بل 2024 منظوری کیے جانے کے بعد ایم پی اے کی تنخواہ 76 ہزار سے 4 لاکھ روپے اور وزیر کی تنخواہ ایک لاکھ سے بڑھا کر 9 لاکھ 60 ہزار کر دی گئی تھی۔اسی طرح ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی تنخواہ ایک لاکھ 20 ہزار روپے سے بڑھا کر 7 لاکھ 75 ہزار روپے کردی گئی تھی، پارلیمانی سیکرٹری کی تنخواہ 83 ہزار روپیسے بڑھا کر 4 لاکھ 51 ہزار جبکہ وزیر اعلیٰ کے مشیر کی تنخواہ ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر 6 لاکھ 65 ہزار روپے کردی گئی تھی۔وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی کی تنخواہ بھی ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر 6 لاکھ 65ہزار روپے کی گئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وزیر اعظم کی منظوری کے بعد تنخواہوں میں اضافے کا پارلیمنٹ کی تنخواہ تنخواہ اور مراعات وفاقی سیکرٹری کے اراکین پارلیمنٹ قومی اسمبلی کی کرنے کی منظوری فنانس کمیٹی نے ذرائع کے مطابق کی تنخواہ اور لاکھ 19 ہزار کی سفارشات سے بڑھا کر ہزار روپے ایک لاکھ گئی تھی

پڑھیں:

سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ

(سٹی42)سندھ حکومت نے مہنگے داموں پاسکو سے گندم خرید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
2024 کی پرانی گندم پاسکو سے خرید ی جائے گی،پاسکو نے فی 40 کلو گرام کا 4150 روپے نرخ مقرر کیا ہے۔
پاسکو نے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم سندھ کو دینے کی پیشکش کی ہے،سندھ نے کاشت کاروں کیلئے 3500 روپے گندم خریداری کا نرخ مقرر کیا تھا لیکن کاشت کاروں نے کم نرخ کی وجہ سے گندم حکومت کو نہیں دی اورسندھ حکومت ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکی۔
سندھ حکومت نےرواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا،اب سندھ حکومت 650 روپے فی 40 کلو گرام 650 روپے مہنگی گندم خرید رہی ہے،سندھ حکومت نے بیرون ممالک سے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
محکمہ خوراک سندھ کے مطابق صوبے کو 16 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی قلت کا سامنا ہے، سندھ میں گندم کی ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے،سندھ میں گندم کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہوئی ، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن پرانی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ کی وجہ کاشت کاروں سے گندم خرید نہیںسکے،گندم کی قلت کا سامنا کرنے کی وجہ سے گندم درآمد کرنی پڑے گی،سندھ کابینہ نے گزشتہ روز گندم در آمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔
 
 

Ansa Awais Content Writer

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • سرکاری ملازمتوں کا شاندار موقع! ماہانہ تنخواہ 1 لاکھ سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف