الیکٹرک گاڑیوں، موٹر سائیکلوں کے فروغ کیلئے ای بائیک اسکیم متعارف کروانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
وفاقی حکومت نے درآمدی بل میں کمی اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے فروغ کیلئے ای بائیکس اسکیم متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت نے ای بائیک اسکیم کا مسودہ تیار کرلیا ہے جب کہ وزیراعظم شہباز شریف 14 اگست کو الیکٹرک بائیکس اسکیم کا افتتاح کریں گے۔
ذرائع کے مطابق ای بائیکس پر سبسڈی کیلئے حکومت نے موجودہ بجٹ میں 9 ارب روپے مختص کر رکھے ہیں۔
الیکٹرک موٹرسائیکل کیلئے آن لائن رجسٹریشن ہوگی، مقررہ حد سے زیادہ درخواستوں کی صورت میں قرعہ اندازی کی جائے گی۔
حکومت الیکٹرک بائیکس پر 65 ہزار روپے سبسڈی دے گی جبکہ باقی رقم بینک بلاسود فراہم کریں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ الیکٹرک وہیکلزپالیسی کے تحت 2030 تک ملک میں ای بائیکس کی تعداد کم از کم 20 لاکھ تک پہنچائی جائیگی, 53 ہزار950 ای رکشے،99 ہزار 155 کاریں ، دو ہزار دو سو38 بسیں اور دو ہزار نو سو چھیانوے ٹرک بھی دستیاب ہوں گے۔
اگلے پانچ سال میں مجموعی طور پر 22 لاکھ 13 ہزار 115 ای وہیکلز کا ہدف مقرر کیا گیا ہے, پہلے مرحلے میں ملک بھر میں 40 فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم ہوں گے، اسلام آباد کو الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے ماڈل سٹی بنانے کا پلان ہے۔
وفاقی دارالحکومت کے تمام پیٹرول پمپوں پر چارجنگ پوائنٹس دستیاب ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔