قومی اسمبلی ارکان کو 1.16 ارب روپے کے فری سفری واؤچرز دیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
ایک آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے مالی سال 2021-22ء سے 2023-24ء کے دوران ارکان قومی اسمبلی کو 1.16 ارب روپے کے فری سفری واؤچرز جاری کیے، جن میں سے 16 کروڑ 10 لاکھ روپے کے جاری کردہ واؤچرز اور بیان کردہ اخراجات میں فرق سامنے آیا ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی انتظامیہ نے بتایا کہ اس عرصہ کے دوران سفری واؤچرز کی مد میں باز ادائیگیوں (Reimbursement) اور انکیشمنٹ (Encashment) پر ایک ارب روپے کے اخراجات ہوئے ہیں۔تاہم، آڈٹ حکام کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اُن واؤچرز کے اخراجات کا مفصل انداز میں میزانیہ (Reconciled Statement) بنانے میں ناکام رہا جو اسٹیٹ بینک نے باز ادائیگیوں کی صورت میں کیے تھے اور یہ اے جی پی آر کے پاس درج ہیں۔ پورٹ نے ان اخراجات کو غیر مجاز اور بے ضابطہ قرار دیتے ہوئے مالی رپورٹنگ میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ضابطوں میں خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ 31 جنوری 2025ء کو منعقد ہونے والے ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) کے اجلاس میں قومی اسمبلی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ سفری واؤچرز کی باز ادائیگیوں کے اعداد و شمار درست کر کے آڈٹ حکام کو مکمل ریکارڈ فراہم کیے جائیں۔جب اس معاملے پر تبصرے کیلئے رابطہ کیا گیا تو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے باضابطہ طور پر کوئی بیان دینے سے گریز کیا تاہم، ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ Reconciled Statement تیار کرنے کا عمل جاری ہے لیکن اس میں وقت لگے گا۔اس عہدیدار نے مزید کہا کہ ری کنسائلمنٹ کے زیادہ تر کیسز سندھ اور بلوچستان کے ارکان قومی اسمبلی کے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سفری واو چرز روپے کے
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔