اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایڈیشنل رجسٹرار کی توہین عدالت کارروائی کیخلاف انٹراکورٹ اپیل واپس لینے کی استدعا پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ توہین عدالت قانون میں پوراطریقہ کار بیان کیاگیا،دونوں کمیٹیوں کو توہین کرنے والے کے طور پر ہولڈ کیا گیا،طریقہ کار تو یہ ہوتا ہے پہلے نوٹس دیا جاتا ہے،ساری دنیا کیلئے آرٹیکل 10اے کے تحت شفاف ٹرائل کا حق ہے،کیا ججز کیلئے آرٹیکل 10اے دستیاب نہیں،جو فل کورٹ بنے گا کیااس میں مبینہ توہین کرنے والے 4ججز شامل ہونگے،ہمیں نوٹس دے دیتے ہیں ہم 4ججز ان کی عدالت میں پیش ہوجاتے۔

مریم کونسے جھنڈے گاڑ رہی ہیں‘، تاجر رہنما عتیق میر نے وزیراعلیٰ سندھ سے متعلق بیان مذاق قرار دیدیا

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق ایڈیشنل رجسٹرار کی توہین عدالت کارروائی کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں 6رکنی بنچ نے سماعت کی، نذر عباس نے انٹراکورٹ اپیل واپس لینے کی استدعا کردی، نذرعباس  کے وکیل نے کہاکہ ہم اپنی انٹراکورٹ اپیل واپس لینا چاہتے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ آپ اپنا کلیم واپس لے سکتے ہیں لیکن اپیل واپس نہیں لی جا سکتی،جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ کمرہ عدالت سے باہر جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میرے موکل کیخلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا گیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ توہین عدالت کارروائی کردی گئی تو آرڈر کیسے دیاگیا، فیصلے میں تو مبینہ طور پر توہین کرنے والوں میں چیف جسٹس پاکستان کو شامل کیاگیا،کیا مبینہ طور پر توہین کرنے والے فل کورٹ تشکیل دیں گے،مرکزی کیس  آئینی بنچ کے سامنے سماعت کیلئے مقرر ہے۔

آپ اپنا کلیم واپس لے سکتے ہیں ،اپیل نہیں ،جسٹس جمال مندوخیل کے ایڈیشنل رجسٹرار کی توہین عدالت کارروائی کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر ریمارکس

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: ایڈیشنل رجسٹرار کی جسٹس جمال مندوخیل توہین کرنے نے کہاکہ

پڑھیں:

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس

چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

مزید پڑھیں

مستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی

چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم