مذاکرات کے خاتمے کے بعد پی ٹی آئی جوکچھ باہرکرے گی اسکا رسپانس حکومت دے گی: عرفان صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
مذاکرات کے خاتمے کے بعد پی ٹی آئی جوکچھ باہرکرے گی اسکا رسپانس حکومت دے گی: عرفان صدیقی WhatsAppFacebookTwitter 0 27 January, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ اگرمذاکرات جاری نہیں رہنے تو پھر مذاکراتی کمیٹی کیا کام کرے گی؟ اس کے بعد پی ٹی آئی والے جوکچھ باہرکریں گے اس کا رسپانس حکومت دے گی۔عرفان صدیقی کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی والے بڑی غیرمنطقی بات کررہے ہیں، پی ٹی آئی نے اپنی ڈیمانڈز ہم تک لانے کیلئے 6 ہفتے لیے اور ہم نے ان سے 7 ورکنگ ڈے مانگے تھے، مشترکہ اعلامیے میں سیون ورکنگ ڈے لکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تین اجلاسوں میں ایک باربھی نہیں کہاکہ7 دن کے اندرمطالبات نہ مانے توالگ ہوجائیں گے، پی ٹی آئی کی اب یہ ڈیمانڈ پتہ نہیں اڈیالہ سے آئی ہے یا کہاں سے آئی ہے؟ ان کا کہنا تھاکہ میرے خیال سے اسپیکر پی ٹی آئی سے رابطے میں ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ پی ٹی آئی کل کے اجلاس میں شرکت کرے گی یا نہیں۔
حکومتی کمیٹی کے رکن کا کہنا تھاکہ مذاکرات ایک سنجیدہ اورجمہوری عمل ہوتا ہے، پی ٹی آئی والے مذاکرات کو چوک چوراہوں پر لے آئے ہیں، کل پی ٹی آئی اگرمیٹنگ کا حصہ نہیں بنتی تو اسپیکر اس کمیٹی کو تحلیل کردیں گے اور جب یہ عمل ختم ہوجائے گا تو پھرہماری کمیٹی بھی تحلیل ہوجائے گی۔
عرفان صدیقی نے کہا کہ اگرمذاکرات جاری نہیں رہنے تو پھر مذاکراتی کمیٹی کیا کام کرے گی؟ اس کے بعد پی ٹی آئی والے جوکچھ باہرکریں گے اس کا رسپانس حکومت دے گی۔دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف سے سینیٹر عرفان صدیقی نے ملاقات کی اور انہوں نے وزیراعظم کوپی ٹی آئی کی کمیٹی سیمذاکرات کی تفصیل سےآگاہ کیا۔
اس حوالے سے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ مذاکرات سیگریز غیرجمہوری رویہ ہے جس سیکشیدگی کاماحول پیداہوتاہے، مذاکرات سے گریز سے قومی یکجہتی کی فضاکوبھی نقصان پہنچتا ہے اور پاکستان کو محاذ رائی اور تصادم کی نہیں،مفاہمت اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے حکومت سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کردیا اور اسپیکر ایاز صادق کے سیکرٹری کو بھی اپنے فیصلے سے متعلق آگاہ کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کا رسپانس حکومت دے گی کے بعد پی ٹی آئی پی ٹی آئی والے عرفان صدیقی نے کہا
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز