فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے کروڑوں روپے کی ٹیکس چوری بے نقاب کردی، اس کارروائی کے دوران سردار انٹرپرائزز نامی کمپنی کے خلاف 82 کروڑ 50 لاکھ روپے کی ٹیکس چوری کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

کلکٹر کسٹمز سعدیہ شیراز کے مطابق کمپنی نے نئی مستثنی اشیاء کو غائب کیا اور استعمال شدہ سامان کو مقامی قیمت پر غیرقانونی طور پر کلیئر کیا۔ اس دوران ضبط شدہ سامان کی مالیت 1 کروڑ 6 لاکھ روپے نکلی جس پر 36 لاکھ روپے کی ٹیکس چوری کی گئی تھی۔

سعدیہ شیراز نے مزید بتایا کہ سردار انٹرپرائزز نے ایک اور کنسائنمنٹ میں روئی کی امپورٹ کے نام پر 14 ہزار کلو صنعتی دھاگہ دھوکے سے منگوایا۔ صنعتی دھاگے پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 44 ہزار روپے فی کلو مقرر ہے۔

ضبط شدہ صنعتی دھاگے کی مالیت 2 کروڑ 20 لاکھ روپے نکلی جبکہ اس پر ٹیکس شدہ ڈیوٹی 82 کروڑ روپے بنتی ہے۔

سعدیہ شیراز کے مطابق دونوں کنسائنمنٹس کی مجموعی مالیت 3 کروڑ 20 لاکھ روپے ہے جبکہ ان پر ہونے والی ٹیکس چوری کا حجم 82 کروڑ 50 لاکھ روپے تک پہنچ گیا ہے۔

ایف بی آر نے دونوں کنسائنمنٹس ضبط کرلی ہیں اور سردار انٹرپرائزز کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی ٹیکس چوری لاکھ روپے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار