جی ایچ کیو حملہ کیس عمران ، کی بریت درخواست مسترد : 190ملین پائو نڈ ریفرنس کیخؒاف اپیلیں دائر
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
راولپنڈی (جنرل رپورٹر) انسداد دہشتگری کی عدالت راولپنڈی نے 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمران خان کی درخواست بریت خارج کردی۔ انسداد دہشتگری کی عدالت راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے سماعت کی۔ بانی پی ٹی آئی نے آرٹیکل 265 کے تحت بریت کی درخواست دائر کی تھی۔ پبلک پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے مؤقف اپنایاکہ ملزم کیخلاف استغاثہ کے پاس کافی شواہد موجود ہیں اور جی ایچ کیو حملہ کیس میں ٹرائل جاری ہے۔ 12 گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوچکے ہیں، ٹرائل کے دوران بریت کی درخواست نہیں بنتی۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست بریت خارج کردی۔ اس سے قبل انسداد دہشتگردی کی عدالت راولپنڈی نے دو پی ٹی آئی رہنماؤں اجمل صابر اور سہیل عرفان عباسی کی درخواست بریت خارج کی تھی۔
اسلام آباد (وقائع نگار) بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا کیخلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کردی گئیں۔ الگ الگ اپیلوں میں موقف اختیار کیا گیا کہ نیب نے بدنیتی سے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا، نامکمل تفتیش کی بنیاد پر جلد بازی میں سزا سنائی گئی، نیشنل کرائم ایجنسی سے معاہدے کا متن حاصل نہ کرنا تفتیشی ایجنسی کی ہچکچاہٹ کو واضح کرتا ہے، این سی اے حکام کو شامل تفتیش بھی نہیں کیا گیا، استغاثہ مکمل شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا، اپیلوں میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے سزا کالعدم قرار دینے، احتساب عدالت کا 17 جنوری کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو بری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں بریت کیخلاف خاور مانیکا کی اپیل نئے بنچ کی تشکیل کیلئے واپس چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو بھجوا دی۔ درخواست گزار وکیل نے کہاکہ ہم نے 13 جولائی 2024 کا ایڈیشنل سیشن جج کا بریت کا فیصلہ چیلنج کر رکھا ہے، بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ دلائل سے پہلے ہم کچھ کہنا چاہ رہے ہیں، آپ یہ کیس سیشن کورٹ میں سن چکے ہیں اور آپ اس پر ایڈورس آرڈر دے چکے ہیں، یہ تو اگر ایک جج کیس سنے اور وہ سپریم کورٹ چلا جائے تو وہاں بھی سنے گا۔ وکیل درخواست گزار نے مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی کیس کا فیصلہ کوئی اور جج دے چکے۔ شعیب شاہین نے کہاکہ آپ پہلے اپنا مائنڈ ڈسکلوز کر چکے ہیں کیس کسی دوسرے بینچ کو منتقل کر دیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ ہم نیا بینچ تشکیل دینے کے لیے چیف جسٹس کو بھیج دیتے ہیں۔ ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کرانے، ذاتی معالج سے معائنہ اور جیل سہولیات سے متعلق درخواست میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کوذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آخری سماعت میں جیل حکام سے فون کالز اور ملاقات سے متعلق رولز کا پوچھا تھا، جیل حکام نے جواب دیا فون کال 13 جنوری کو ہوئی تھی، دوسری بار فون کال کیلئے درخواست تو نہیں دینا ہوگی۔ جیل حکام نے بتایا واٹس ایپ کال رولز میں نہیں لیکن عدالتی حکم پر کروائی گئی، سزا سنائے جانے کے بعد بشری بی بی کی دو بار ملاقات کرائی گئی، اسی لیے کہا تھا رپورٹ دیں، اگر ایسا ہی جواب دینا تھا تو میں سپرنٹنڈنٹ کو بلا لیتا ہوں۔ عدالت نے ہدایت دی کہ سپرنٹنڈنٹ جیل23 جنوری کا عدالتی آرڈر پڑھ کر آئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی اسلام ا باد کی درخواست عدالت نے چیف جسٹس کی عدالت چکے ہیں ئی اور
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔