ریلوے کی 13ہزار ایکڑ اراضی سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے قبضے میں ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
لاہور:
پاکستان ریلوے کی 13 ہزار ایکڑ سے زائد اراضی غیر قانونی طور پر سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے قبضے میں ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایکسپریس نیوز کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق پاکستان ریلوے کی 13 ہزار 381 ایکڑ سے زائد اراضی غیر قانونی طور پر آج بھی قابضین کے قبضے میں ہے۔
سرکاری دستاویزات میں انکشافات سامنے آنے کے بعد بھی بااثر لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ ریلویز کی اراضی پر قبضہ کرکے قبضہ مافیا ماہانہ کروڑوں روپے کما رہا ہے اور بہت ساری اراضی پر کمرشل کاروبار ہو رہا ہے جبکہ سیکڑوں ایکڑ اراضی پر مکانات بن چکے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق 24 ہزار ایکڑ سے زائد لینڈ پنجاب حکومت کے قبضے میں ہے جس میں سے پنجاب حکومت نے بیشتر زمین پاکستان ریلوے کو منتقل کر دی ہے جبکہ سندھ حکومت نے تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔
اسی طح، کے پی کے پاس 28ہزار 381 اور بلوچستان کے پاس 9ہزار 51 ہزار ایکڑ اراضی ہے جو پاکستان ریلویز کو منتقل نہیں کی گئی جبکہ 1970 کے صدارتی حکم نامے کے مطابق زمین پاکستان ریلوے کو منتقل ہونی تھی۔
دستاویزات کے مطابق 9382 ایکڑ نجی افراد کے قبضے میں ہے اور 4ہزار کے قریب اراضی سرکاری محکموں کے قبضے میں ہے۔
پاکستان ریلویز نے اپنی اراضی قبضہ مافیا سے وا گزار کروانے کے لیے درجنوں چھوٹے چھوٹے آپریشن کلین اَپ بھی کیے مگر اس کے باوجود اراضی چھڑانے میں ناکام رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے قبضے میں ہے پاکستان ریلوے ہزار ایکڑ کے مطابق
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔