’متھیرا کو کورٹ لے کر جاؤں گا‘، چاہت فتح علی خان نے ویڈیو کی حقیقت بیان کردی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک)سوشل میڈیا سیسیشن چاہت فتح علی خان کا کہنا ہے کہ میزبان و ماڈل متھیرا ان کی منتیں کرتی رہیں کہ وہ ان کے شو میں شرکت کریں کیونکہ ان کا شو چل نہیں رہا تھا۔
چاہت فتح علی خان کا کہنا تھا کہ شو کے دوران متھیرا نے بہت اچھے اور دلچسپ مذاق کیے اور شو ختم ہونے کے بعد تصاویر بنانے کی غرض سے متھیرا میرے پاس آئیں تو انہوں نے میری کمر میں ہاتھ ڈالا جس پر میں نے ان سے کہا کہ تصویر سامنے سے لیتے ہیں‘۔
چاہت فتح علی خان کے مطابق متھیرا نے ان سے کہا کہ گانا شوٹ کر کے دکھائیں جس پر انہوں نے اپنا گانا ’مجھے پیار دو‘ شوٹ کر کے دکھایا جس سے متھیرا خوب لطف اندوز ہوئیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ متھیرا ان پر ہراسمنٹ کا الزام لگا رہی ہیں جو بہت بڑا الزام ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے اپنے وکیل سے رجوع کیا اور کہا کہ وہ متھیرا کو کورٹ لے کر جائیں گے۔
چاہت فتح علی خان نے مزید کہا کہ متھیرا کا کہنا ہے ’میری ٹیم شو میں میرے ساتھ گئی تھی لیکن یہ جھوٹ ہے۔ میں ہمیشہ اکیلا ہی شو پر جاتا ہوں اور جو ویڈیو بنائی گئی وہ متھیرا کے کیمرہ مین نے ہی بنائی تھی اور ان سے مجھے بھی مل گئی تھی۔ اس پر یہ کہنا کہ ویڈیو میں نے چوری چوری بنائی یہ جھوٹ ہے‘۔
واضح رہے کہ چاہت فتح علی خان نے حال ہی میں پاکستان کی نامور میزبان و ماڈل متھیرا کے پروگرام میں شرکت کی جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو متھیرا کی جانب سے اس پر سخت ردعمل دیا گیا۔
متھیرا کا کہنا تھا کہ اس انداز میں ویڈیو بنانا انتہائی بری حرکت تھی۔ اور یہ وائرل ویڈیو ان کے شو کے کیمروں سے نہیں بلکہ چاہت فتح علی خان کی جانب سے عجیب زاویے سے بنائی گئی تھی۔
ماڈل کے مطابق وہ اپنے سیٹ سے روانگی کے لیے تیار تھیں، ان کی گاڑی باہر کھڑی ہوئی تھی، اس دوران چاہت فتح علی خان نے ویڈیو بنائی جس کے فوراً بعد وہ سیٹ سے چلی گئیں۔
متھیرا کا کہنا تھا کہ وہ مہمانوں کو ہمیشہ عزت دیتی ہیں اور ان سے پیار سے اور اچھے انداز میں پیش آتی ہیں لیکن چاہت نے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بولڈ ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی بھی انہیں دیکھے اور گلے لگالے یا ان کی پشت پر ہاتھ رکھ دے۔
اداکارہ نے کہا کہ لوگ شہرت کے لیےعجیب عجیب حرکتیں کرتے ہیں، انہیں بہت مایوسی ہوئی ہے۔ معلوم نہیں کہ چاہت فتح علی خان نے یہ حرکت کیوں کی ہے۔ متھیرا کے مطابق انہوں نے چاہت فتح علی خان سے بات بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ یہ وڈیو ہٹا دیں گے لیکن نہ تو ان کے پیج سے وڈیو ہٹائی گئی ہے اور نہ ہی معافی مانگی گئی ہے۔
متھیرا نے ناظرین سے کہا کہ اگر وہ انہیں کہیں دیکھیں تو نہ انہیں گلے لگائیں اور نہ ہاتھ ملانے کی کوشش کریں۔
مزیدپڑھیں:برطانیہ کے لیے پی آئی اے کی پروازوں کی بحالی سے پاکستان کو کتنا فائدہ پہنچے گا؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: چاہت فتح علی خان نے کہنا تھا کہ انہوں نے کا کہنا کہا کہ
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔