Express News:
2026-07-24@02:42:07 GMT

بھارت سے آنے والے نایاب ہرن کو آزاد کردیا گیا

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT

لاہور:

پنجاب وائلڈلائف کے حکام نے شکر گڑھ کے سرحدی گاؤں ڈوگرہ میں بھارت سے آنے والے ایک نایاب نسل کے سامبر ہرن کو ریسکیو کرکے اسے دوبارہ قدرتی ماحول میں آزاد کر دیا۔

یہ سامبر ہرن اپنے مسکن سے بھٹک کر پاکستانی سرحدی علاقے میں داخل ہو گیا تھا، جہاں مقامی لوگوں نے اسے پکڑ لیا اور پنجاب وائلڈلائف کو اطلاع دی۔  

وائلڈلائف کی ٹیم نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے شکر گڑھ کے نواحی علاقے ڈوگرہ میں پہنچ کر سامبر ہرن کو ریسکیو کیا۔

حکام کے مطابق یہ نر سامبر تقریباً ڈھائی من وزنی اور مکمل طور پر صحت مند تھا۔ پنجاب رینجرز کی نگرانی میں اسے دوبارہ قدرتی ماحول میں چھوڑ دیا گیا۔  

وائلڈلائف حکام کے مطابق موسم سرما میں سانبر، نیل گائے اور دیگر جنگلی جانور اکثر خوراک کی تلاش یا شکاریوں کے خوف سے اپنے مسکن سے بھٹک کر بھارت سے پاکستان کی سرحدی علاقوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ لاہور کے جلو پارک میں موجود نیل گائے اور سانبر ہرن کی بڑی تعداد بھی اسی طرح بھارت سے پاکستان آئی تھی، جو اب یہاں مستقل طور پر رہ رہے ہیں۔  

یہ واقعہ جنگلی حیات کے تحفظ اور سرحدی علاقوں میں ان کی نقل و حرکت کے بارے میں آگاہی پیدا کرتا ہے۔ پنجاب وائلڈلائف کی جانب سے اس طرح کے اقدامات جنگلی جانوروں کے تحفظ اور انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنے کی کوششوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کوئی جنگلی جانور نظر آئے تو فوری طور پر وائلڈلائف حکام کو اطلاع دیں، تاکہ اسے محفوظ طریقے سے ریسکیو کرکے اس کے قدرتی مسکن میں واپس بھیجا جا سکے۔  

اس واقعے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی علاقوں میں جنگلی حیات کی نقل و حرکت ایک عام بات ہے، اور اس کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ جنگلی جانوروں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارت سے

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق