سرفراز احمد کی پاکستان چیمپیئنز میں شمولیت، ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز کے لیے معاہدہ طے
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
کراچی: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سرفراز احمد ایک بار پھر پاکستان کی نمائندگی کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان چیمپیئنز نے ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز کے دوسرے ایڈیشن کے لیے سرفراز احمد سے باقاعدہ معاہدہ کر لیا ہے۔
ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز کے پہلے ایڈیشن میں انڈیا چیمپیئنز نے پاکستان چیمپیئنز کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا، تاہم اس بار پاکستان چیمپیئنز مضبوط کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اترے گی۔
پاکستان چیمپیئنز نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ انسٹاگرام پر سرفراز احمد کی شمولیت کا اعلان کیا، جہاں انہیں "کیپٹن، لیڈر اور لیجنڈ” کے القابات سے نوازا گیا۔
واضح رہے کہ سرفراز احمد کی قیادت میں پاکستان نے 2017 میں چیمپیئنز ٹرافی جیتی تھی، اور ان کا وسیع تجربہ ٹیم کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nai Baat
کلیدی لفظ: پاکستان چیمپیئنز کے لیے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔