امریکا: اسرائیل مخالف اور غزہ کے حق میں مظاہرہ کرنیوالوں کے ویزے منسوخ کرنے کا فیصلہ(غیرقانونی تارکین وطن کو گوانتانامو بے بھیجنے کا قانون منظور)
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2025 GMT
واشنگٹن (اے پی پی + مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا میں اسرائیل مخالف اور غزہ کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں کے ویزے منسوخ کرنے کا فیصلہ، صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ تمام غیر ملکیوں جو حماس حامی مظاہروں میں شامل ہوئے انہیںڈھونڈ کر ملک بدر کر دیں گے،حماس کے ہمدرد کسی شخص کو اسٹوڈنٹ ویزا نہیں دیاجائیگا،جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیرقانونی تارکین وطن کو گوانتانامو بے بھیجنے کے حوالے سے ایک اہم قانون پر بھی دستخط کر دیے ہیں۔،پینٹاگون اور ہوم لینڈ سیکورٹی کو گوانتاناموبے میں 30 ہزار تارکین کے لیے انتظام کی ہدایت کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے حکم نامے پر دستخط کرنے والے ہیں جس کا مقصد اسرائیل مخالف مظاہرین کو سزا دینا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں مقیم یہودیوں کی حفاظت کے لیے اہم فیصلہ کیا ہے۔ اہلکار نے مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ یہودیوں کی مخالفت اور ان پر پرتشدد کارروائیوں کے خلاف سخت قانون سازی پر غور کر رہے ہیں۔ اس قانون سازی کے تحت اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں امریکی جامعات میں ہونے والے مظاہروں میں شریک غیر ملکی طلبہ اور دیگر افراد کو ملک بدر کردیا جائے گا۔ ٹرمپ نے حکم نامے کا خاکہ پیش کرتے ہوئے فیکٹ شیٹ میں کہا، ’’ان تمام غیر ملکیوں کے لیے جو حماس حامی مظاہروں میں شامل ہوئے، ہم آپ کو نوٹس دیتے ہیں کہ 2025 تک، ہم آپ کو ڈھونڈ لیں گے، اور ہم آپ کو ملک بدر کر دیں گے۔‘‘ حکم نامے میں حماس کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے کسی بھی شخص کے اسٹوڈنٹ ویزا کو بھی فوری طور پر منسوخ کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ امریکی صدر نے فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہروں کی اجازت دینے پر امریکی کالج کیمپس پر بنیاد پرستی سے متاثر ہونے کا الزام بھی لگایا۔علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیرقانونی تارکین وطن کو گوانتانامو بے بھیجنے کے حوالے سے ایک اہم قانون پر دستخط کر دیے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بدنام زمانہ گوانتاناموبے ملٹری جیل میں 30 ہزار غیرقانونی تارکین وطن کو قید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق یہ جیل 9/11 کے حملوں کے بعد دہشت گردی کے مشتبہ افراد کو رکھنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ چونکا دینے والا اعلان گزشتہ روز اس وقت کیا جب انہوں نے لاکن ریلی بل پر دستخط کیے، جس کے تحت چوری اور پرتشدد جرائم کے الزام میں دستاویزات نہ رکھنے والے تارکین وطن کو مقدمے سے پہلے حراست میں رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک ایگزیکٹوآرڈر پر دستخط کر رہے ہیں جس میں پینٹاگون اور ہوم لینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ گوانتاناموبے میں 30 ہزار تارکین وطن کو رکھنے کے لیے انتظام شروع کریں۔ وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد یہ پہلا بِل ہے جس پر ٹرمپ نے دستخط کیے ہیں۔ 20 جنوری کو ٹرمپ کی حلف برداری کے صرف دو دن بعد ریپبلکنز کی زیر قیادت امریکی کانگریس نے اسے منظور کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل غیرقانونی تارکین وطن کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرنے کا کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔