Daily Mumtaz:
2026-07-23@23:31:27 GMT

150 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار سے بولنگ ہو تو پھر فرینڈشپ کہاں؟

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2025 GMT

150 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار سے بولنگ ہو تو پھر فرینڈشپ کہاں؟

آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی میں روایتی حریف پاک بھارت ٹیموں کے ٹکراؤ سے قبل سارو گنگولی نے پاک بھارت فرینڈ شپ کپ کی یادیں تازہ کردیں۔

اس حوالے سے نیٹ فلکس سیریز کے پرومو میں سابق کپتان سارو گنگولی نے کہا کہ 1996 میں دونوں ٹیموں کے درمیان کینیڈا میں فرینڈ شپ کپ کھیلا گیا، جو بس نام کا ہی فرینڈشپ کپ تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس کپ میں پاک بھارت میچ کے دوران ایک طرف سے وسیم اکرم کی سوئنگ بالنگ سے پریشان کررہے تھے اور دوسری طرف شعیب اختر جیسا بولر 150 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار سے بولنگ کررہا ہو تو پھر فرینڈشپ کہاں رہ جاتی ہے۔

سابق بھارتی کپتان کے جواب میں راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر نے سارو گنگولی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دادا آپ منفرد ہو، بھارتی کرکٹ آپ کے بغیر نامکمل ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں نیٹ فلکس انڈیا نے اپنی نئی ڈاکو سیریز دی گریٹیسٹ رائیولری: انڈیا بمقابلہ پاکستان کا ٹریلر جاری کیا تھا جس میں چند جھلکیاں دیکھائی گئی تھیں۔

نیٹ فلکس نے اس سنسنی سے بھرپور ویب سیریز کو 7 فروری 2025 کو ریلیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ دستاویزی سیریز کرکٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی اور شدید حریف ٹیموں، بھارت اور پاکستان کے درمیان مقابلوں کی تفصیلات پر روشنی ڈالے گی۔

View this post on Instagram

A post shared by Netflix India (@netflix_in)

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا