لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کیجیے!
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2025 GMT
کرسٹینا کی عمر صرف چوبیس برس تھی۔ نیویارک کا ایک علاقہ ہے، جس کا نام، ایسٹ ولیج (East Village) ہے۔ یہاں ارب پتی افراد کے دفاتر اور گھر بھی ہیں۔ اور اختتامی حصے میں متوسط سطح کے افراد بھی مقیم ہیں۔ ایسٹ ولیج میں درجنوں نہیں، سیکڑوں ریسٹورنٹ موجود ہیں۔ ہر رنگ اور نسل کے لوگ وہاں آتے جاتے رہتے ہیں۔
اَن گنت ہوٹلوں میں ایک چھوٹا سا کیفے بھی ہے۔ کرسٹینا اس ایک معمولی سے ریسٹورنٹ میں ویٹرس تھی۔ ادنیٰ شکل وصورت کی لڑکی، ان لاکھوں خواتین میں شامل تھی جو سارا دن محنت کر کے اپنا گزارا مشکل سے ہی کر پاتے ہیں۔ دراصل نیویارک ایک حددرجہ مہنگا شہر ہے۔ مین ہیٹن تو خیر انسانی عقل سے بھی زیادہ مہنگا ہے۔ ایسٹ ولیج مین ہیٹن ہی میں واقع ہے۔
کرسٹینا کی ذاتی زندگی دکھوں سے معمور تھی۔ والد، نشہ کرتا تھا اور والدہ ایک امیر آدمی کے گھر باورچن تھی۔ ظلم یہ بھی تھا کہ کرسٹینا ابھی صرف دس برس کی تھی کہ والدہ نے اپنے شوہر سے تنگ آ کر طلاق لے لی۔ کرسٹینا نے اپنے بچپن میں صرف خانگی لڑائی جھگڑا اور مار پیٹ کے علاوہ کچھ بھی نہیں دیکھا تھا۔ مگر اس کی فطرت میں ایک بہت بڑی خوبی تھی۔ گھریلو تلخی نے اس کی زندگی میں زہر گھولنے کے بجائے، اسے مسکرانا سکھا دیا تھا۔
وہ ہر ایک کی مدد کرنا چاہتی تھی مگر اس کے اپنے وسائل اتنے کم تھے کہ کسی کی مالی مدد کرنا ناممکن سا تھا۔ ویٹرس کے طور پر کرسٹینا اپنا کام حددرجہ تندہی سے کرتی تھی۔ مسکرا کر لوگوں سے کھانے کا آرڈر لیتی تھی اور خوشگوار طریقے سے اپنے کام کو نپٹاتی تھی۔ بہرحال، یہ اس کا ذاتی رویہ تھا اور اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ اکثر اوقات اپنے گھر سے بس کے ذریعے کام پر آ جاتی تھی۔ ایک دن بارش میں کرسٹینا ڈیوٹی پر جا رہی تھی۔ بس اسٹاپ پر اتری تو وہاں اسے ایک سات آٹھ برس کا بچہ نظر آیا۔ معصوم بچے کے سارے کپڑے پانی سے شرابور تھے اور وہ سخت سردی کی وجہ سے کانپ رہا تھا۔
کرسٹینا نے بچے کو دیکھا تو وہ اس کی طرف چلی گئی۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے مکمل اجنبی تھے۔ کرسٹینا نے چھتری کھولی، بچے کو ساتھ لیا اوراپنے کیفے کی طرف چل پڑی جو نزدیک ہی تھا۔ وہاں پہنچ کر اس نے بچے کے لیے گرم سوپ بنوایا اور اسے اپنے ہاتھوں سے پلایا۔ بچے نے کہا کہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں اور وہ یتیم ہے۔
کرسٹینا کا جواب تھا کہ یہ سوپ تمہارے لیے بالکل مفت ہے۔ کرسٹینا نے بچے کے گیلے کپڑوں کو بھی خشک کیا۔ بچہ بہتر ماحول کی بدولت کھلکھلا اٹھا۔ وہ بہت خوش تھا۔ جب بارش ختم ہوئی تو کرسٹینا نے بچے کو اپنی جیب میں سے پچاس ڈالر دیے اور اسے کہا کہ جب بھی کھانے کی ضرورت ہو، وہ کیفے میں آ جائے۔
مگر یہ پورا واقعہ نہیں ہے۔ اس واقعہ کا ایک اور حصہ بھی ہے جو کرسٹینا کے علم میں نہیں تھا۔ جب بچہ بس اسٹاپ پر سردی کی بدولت ٹھٹھر رہا تھا، عین اسی وقت نیویارک کی ایک بہت بڑی کمپنی کا مالک اپنی قیمتی گاڑی لیے، بس اسٹاپ کے نزدیک موجود تھا۔ اس کا نام الیکس (Alex) تھا۔ گاڑی روک کر وہ خود بچے کی مدد کرنا چاہتا تھا مگر اس کے کار سے نکلنے سے پہلے ہی کرسٹینا پہنچ گئی اور بچے کو کیفے لے گئی اور وہاں اس کی بھرپور مدد کی۔ الیکس، کرسٹینا کے پیچھے پیچھے کیفے تک پہنچا اور اپنی گاڑی ہی میں سب کچھ دیکھتا رہا۔ الیکس، کرسٹینا سے حددرجہ متاثر ہوا کہ کیسے بغیر جان پہچان کے، نوجوان ویٹرس نے ایک معصوم بچے کی کتنی مؤثر مدد کی۔ ایک دن الیکس اپنے دفتر سے لنچ کے لیے نکلا اور اس کیفے میں چلا گیا جہاں کرسٹینا کام کرتی تھی۔ ویٹرس کے خواب وخیال میں بھی نہیں تھا کہ الیکس جیسا انسان پورا واقعہ دیکھ چکا ہے۔
الیکس نے وہاں لنچ کیا اور جب کرسٹینا بل لے کر آئی تو اس نے حددرجہ احتیاط سے بل کے ساتھ پانچ ہزار ڈالر رکھے اور فوری طور پر کیفے سے باہر چلا گیا۔ کرسٹینا نے جب بل کے ساتھ ٹپ دیکھی تو حیران رہ گئی۔ اس کا خیال تھا کہ کوئی گاہک، غلطی سے اپنے پیسے یہاں بھول گیا ہے۔ کرسٹینا ششدر تھی کہ کون اسے پانچ ہزار ڈالر ٹپ کیوں دے گا مگر الیکس واپس نہیں آیا۔ مگر وہ کیفے کے سامنے سے گزرتا ضرور تھا۔ اور کرسٹینا کو مسکراہٹ سے کام کرتے دیکھ کر پرمسرت طریقے سے واپس چلا جاتا تھا۔
کرسٹینا کو بالکل علم نہیں تھا کہ کوئی اسے کام کرتے نوٹس کر رہا ہے۔ بہرحال وقت گزرتا چلا گیا۔ ایک دن شام کے وقت، کرسٹینا اپنے گھر واپس جا رہی تھی کہ ایک قیمتی گاڑی اس کے نزدیک آئی۔ الیکس باہر نکلا اور کرسٹینا کو کہا کہ وہ اس سے کچھ بات کرنا چاہتا ہے۔ کرسٹینا اور الیکس، فٹ پاتھ پر لگے ہوئے ایک بنچ پر بیٹھ گئے۔ الیکس نے بارش اور اس بچے کی مدد کی پوری کہانی تفصیل سے سنائی۔ یہ بھی بتایا کہ پانچ ہزار ٹپ بھی اس نے دی تھی۔ کرسٹینا مکمل طور پر حیران رہ گئی کہ کوئی اس کے انسانی مدد کے واقعہ کو اتنی تفصیل سے دیکھ رہا تھا۔ بہرحال الیکس نے کہا کہ وہ کرسٹینا کوایک کام دینا چاہتا ہے اور اس کے لیے اس نے دو لاکھ ڈالر رکھے ہوئے ہیں۔ کرسٹینا نے پریشانی سے کہا کہ وہ قطعاً دو لاکھ ڈالر نہیں لے سکتی۔
الیکس نے سنجیدگی سے کہا کہ پہلے کام کی نوعیت کو تو سن لیجیے پھر انکار کر دینا۔ الیکس نے کہا کہ وہ ایک ارب پتی انسان ہے مگر پیسے نے اسے کبھی اندرونی خوشی نہیں دی۔ جس دن، آپ بچے کی مدد کر رہی تھی، اسی دن مجھے پتہ چلا کہ اصل خوشی تو دوسروں کی بے لوث مدد کرنے میں ہے اور اس جذبہ کی بدولت ہے جس کی وجہ سے انسان لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔
میں ایک چھوٹا سا کیفے چلانا چاہتا ہوں جس کی مالک آپ ہوں گی۔ شرط صرف یہ ہے کہ کوئی بھی انسان پیسے نہ ہونے کی بدولت وہاں سے بھوکا واپس نہ جائے۔ کرسٹینا سوچ میں پڑگئی۔ الیکس نے کہا کہ آپ یہ نیا کیفے ضرور کھولیں اور انسانی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر کام کیجیے۔ کرسٹینا بہت سوچ بچار کے بعد مان گئی۔ اور مین ہیٹن میں ہی ایک چھوٹا ساکیفے خرید کر کام کرنا شروع کر دیا۔ وہ آفاقی مسکراہٹ کے ساتھ آرڈر لیتی تھی، کھانا پہنچاتی تھی، ٹیبل صاف کرتی تھی اور ہر ایک سے خوش اخلاقی سے پیش آتی تھی۔ ہاں، بندہ اگر کھانے کے پیسے نہیں دے سکتا تو وہ اس سے کوئی بھی پیسوں کا تقاضا نہیں کرتی تھی۔
یہ سچا واقعہ، دس برس پرانا ہے مگر یہ ہم سب لوگوں کے لیے ایک نصیحت ضرور چھوڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسانی خوشی کی بنیاد کیا ہے۔ خوش ہونے کا مطلب کیا ہے۔ خوشی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔ کیا یہ بناوٹ یا تصنع یا نیکی کے پروپیگنڈے سے منسلک ہے۔ جناب، بالکل نہیں، قطعاً نہیں۔ دراصل انسان کو اندرونی مسرت صرف اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ عام لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ کسی جزا کے بغیر اجنبی افراد کی بے لوث مدد کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔ خدا نے جو وسائل اسے مہیا کیے ہیں، وہ انھیں صرف اور صرف اپنے لیے استعمال نہیں کرتا بلکہ اس پر دوسرے مستحق لوگوں کا حق بھی مانتا ہے۔
سبق تو یہی ہے کہ لوگوں کے لیے آسانیاں در آسانیاں پیدا کی جائیں مگر یہاں سے کچھ ذہنی الجھنیں بھی شروع ہوتی ہیں۔ اگر انسان امیر نہیں ہے تو پھر وہ لوگوں کی کیسے مدد کر سکتا ہے۔ بالکل درست بات ہے کہ اگر ذاتی وسائل محدود ہیں تو آپ بذات خود عسرت کا شکار ہیں۔ تو پھر آپ کیونکر دوسروں کے کام آ سکتے ہیں۔
اس کا بہت سادہ سا حل ہے، جس پر کوئی پیسہ بھی خرچ نہیں ہوتا۔ آپ، جو بھی کام کر رہے ہیں، آپ اسے خوشگوار طریقے سے سرانجام دینا شروع کر دیجیے۔ لوگوں سے مسکرا کر بات کریں۔ درشت اور غصہ کے رویہ کو بھول جایئے۔ مثبت رویہ سے، قدرت کسی ایسے غیبی دروازہ کے کواڑ آپ کے لیے کھولے گی جس کا تصور بھی آپ نہیں کر سکتے۔ کسی بھی جزا کے بغیر، اپنے رویہ کو انسان دوست رکھیے۔ آپ کی زندگی بدل جائے گی۔ بذات خود، خوش رہنا شروع کر دیں گے۔
مشکلات اگر آتی بھی ہیں تو آپ کے اس رویہ کی بدولت، سرنگوں ہو جائیں گی۔ ذرا آگے چلیے۔ زندگی کا مقصد یہی ہے۔ زندگی ہے کیا؟ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مشکل امر یہ ہے کہ اس کے مقصد کو سمجھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ دراصل زندگی دوسروں میں آسانیاں تقسیم کرنے کا نام ہے اور انسانی خوشی بھی اسی امر میں پوشیدہ ہے۔ آپ کسی اجنبی کی معمولی سی مشکل کو حل کر کے دیکھیے، آپ کی روح تک خوش ہو جائے گی۔ شخصیت مکمل ہونے لگے گی۔ ہاں ایک اور بات، مسکرا کر کام کرنا بھی ایک نیکی ہے۔
صرف یہ عرض کر رہا ہوں کہ دوسرے انسان کو حوصلہ دینا بھی اس کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کا موجب بنتا ہے۔ کرسٹینا کی مثال اپنے سامنے رکھیے۔ دوسروں کی مدد صرف اور صرف انسانی ہمدردی کے تحت کیجیے۔ اسے جزا سے منسلک نہ کریں۔ اگر الیکس جیسا ارب پتی، آپ کو چھپ کر نہیں دیکھ رہا، تو خدا تو ضرور دیکھ رہا ہے، اس سے آگے آپ کو مزید کیا چاہیے!
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ا سانیاں پیدا کرسٹینا کو کرسٹینا نے کہا کہ وہ نے کہا کہ کی بدولت الیکس نے کرتی تھی نہیں تھا کہ کوئی بچے کی کی مدد کام کر تھا کہ اور اس بچے کو نے بچے
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی