کراچی:

وفاقی وزیر تعلیم و ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان کا بحران 2024 نہیں بلکہ 2018 کے الیکشن کی وجہ سے ہے۔

جامعہ بنوریہ امتحانی مرکز کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سیاسی بحران نے معاشی بحران بھی پیدا کیا ہوا ہے، پاکستان میں ٹریڈ ڈیفیسٹ نہیں ٹرسٹ ڈیفیسٹ کا مسئلہ ہے۔

 انہوں نے کہا کہ برسوں سے سندھ میں کوٹہ سسٹم لگایا ہوا ہے، جن کے پاس اقتدار کبھی نہیں رہا مگر اختیار پورا رہا ہے، کراچی کا حق ادا کریں گے، 2018 میں جو آئے انہوں نے کراچی کے لیے آواز بلند نہیں کی۔

وفاقی وزر تعلیم نے کہا کہ جاگیر دارانہ نظام تو چلتا ہی دھونس دھمکی پر ہے، پی پی پی اور ایم کیو ایم کے درمیان اختلاف موجود ہے، کوٹہ سسٹم لسانی بنیاد پر لگایا گیا، یہ قبضہ کرنے کی سازش ہے۔

ڈاکٹر خالد مقبول کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کی ضرورت ہے، لنگڑی جمہوریت پاکستان کا مسئلہ حل نہیں کرسکتی، اب کراچی میں اس مرتبہ فنڈز ضائع نہیں ہونے دیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خالد مقبول نے کہا

پڑھیں:

عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی

لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔

ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک