شمالی غزہ کی پٹی سے 37 شہداء کے جسد خاکی برآمد
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2025 GMT
سول ڈیفنس نے وضاحت کی کہ قابض اسرائیلی فوج نے اپنے بلڈوزروں سے شہداء کی لاشیں کمال عدوان اسپتال کے اردگرد بکھری قبروں سے نکال کر شہید اسماعیل ابو القمصان کے علاقے میں کچی زمینوں پر پھینک دی تھیں۔ اسلام ٹائمز۔ شمالی غزہ کی پٹی سے 37 شہداء کی لاشیں برآمد کی گئیں جبکہ ایک دن پہلے 24 شہداء کے جسد خاکی ملبے سے برآمد ہوئے تھے۔ سول ڈیفنس نے ہفتے کی شام اعلان کیا کہ اس کے عملے نے شمالی غزہ کی پٹی سے 37 شہداء کی لاشیں نکال لی ہیں۔ سول ڈیفنس نے وضاحت کی کہ قابض اسرائیلی فوج نے اپنے بلڈوزروں سے شہداء کی لاشیں کمال عدوان اسپتال کے اردگرد بکھری قبروں سے نکال کر شہید اسماعیل ابو القمصان کے علاقے میں کچی زمینوں پر پھینک دی تھیں۔ انہوں نے بیت لاہیا پروجیکٹ قبرستان میں ان لاشوں کی تدفین کی تصدیق کی۔انیس جنوری کو جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے سول ڈیفنس کی ٹیمیں ان علاقوں میں شہداء کی لاشیں نکالنے کے لیے کام کر رہی ہیں جو اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنے تھے۔ ضروری آلات کی کمی کے باعث سینکڑوں لاشوں کی منتقلی اب بھی ناممکن ہے۔
دوسری جانب ایک روز قبل ہی فلسطینی وزارت صحت نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی میں 27 شہداء کے جسد خاکی اور 8 زخمیوں کی ہسپتالوں میں آمد کا اعلان کیا تھا۔ وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ شہداء میں 24 کے جسد خاکی ملبے کے نیچے سے نکالا گیا ہے۔ ایک نیا فلسطینی اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہوا جب کہ دو زخمی دم توڑ گئے۔وزارت صحت کا کہنا ہے کہ شہداء کی ایک بڑی تعداد اب بھی ملبے کے نیچے اور سڑکوں پر ہے۔ ایمبولینس اور سول دفاع کا عملہ ان تک نہیں پہنچ سکتا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی جارحیت سے شہید ہونے والوں کی تعداد 47,487 ہوگئی ہے۔ امریکی حمایت سے غزہ پر وحشیانہ صیہونی بمباری کے نتیجے میں سینکڑوں شہداء کی لاشیں اب بھی ملبے تلے موجودہ ہیں جنہیں نکالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شہداء کی لاشیں کے جسد خاکی غزہ کی پٹی
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان