کوئٹہ سمیت بلوچستان کے شمالی اضلاع شدید سردی کی لپیٹ میں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2025 GMT
بلوچستان میں کوئٹہ سمیت شمالی اضلاع شدید سردی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، قلات میں درجہ حرارت منفی 7، زیارت میں منفی 6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق شمالی اضلاع میں یخ بستہ ہواؤں کا راج ہے، کھلے مقامات پر کھڑا پانی جم گیا ہے، شدید سردی سے صبح اور رات کے اوقات میں معمولات زندگی متاثر، اور سڑکوں، بازاروں میں رش معمول سے کم رہنے لگا ہے۔آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بھی شمالی اضلاع میں موسم شدید رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جب کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران صوبے کے بیش تر اضلاع می موسم سرد اور خشک رہے گا۔واضح رہے کہ ملک کے دارالحکومت اسلام آباد اور گرد و نواح میں موسم سرد اور خشک ہے، تیز ہوائیں بھی چل رہی ہیں اور دھوپ بھی نکلی ہوئی ہے۔ ملک بھر میں سردی کی لہر برقرار ہے، اور بالائی علاقوں نے برف کی چادر اوڑھ لی ہے۔ محکمہ موسمیات نے آج بالائی خیبرپختونخوا اور کشمیر میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش اور پہاڑوں پر برف باری کی ہیش گوئی کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔