ٹیرف وار: چین کا جوابی حملہ، امریکہ پر پندرہ فیصد محصولات عائد کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 04 فروری 2025ء) چین کی وزارت خزانہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے چین پر دس فیصد محصولات عائد کرنے کے اقدامات کے جواب میں بیجنگ نے بھی امریکی مصنوعات کی ایک رینج پر پندرہ فیصد تک کے نئے ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی ٹیرف وار: اب یورپ بھی ٹرمپ کے نشانے پر
بیجنگ کی وزارت تجارت نے کہا کہ کوئلہ اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) پر 15 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
وزارت نے مزید کہا کہ خام تیل، زرعی مشینری اور بڑی نقل مکانی کرنے والی کاروں پر بھی 10 فیصد ٹیرف عائد کی جائےگی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ محصولات 10 فروری سے لاگو کی جائیں گی۔
توقع ہے کہ ٹرمپ آئندہ چند دنوں میں چینی صدر شی جن پنگ سے بات کریں گے۔
(جاری ہے)
یورپی یونین 'سختی سے' جواب دے گی، ارزولا فان ڈیئر لائنیورپی رہنماؤں نے خبردار کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یورپی یونین پر محصولات عائد کرنے کی دھمکی سے تجارتی جنگ چھڑنے کا خطرہ ہے جس سے بحر اوقیانوس کے دونوں اطراف کے صارفین کو نقصان پہنچے گا اور ساتھ ہی چین کا ہاتھ مضبوط ہو گا۔
ٹرمپ کی میکسیکو اور چین پر بھاری محصولات نافذ کرنے کی دھمکی
یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیئر لائن نے کہا کہ بلاک ٹرانس اٹلانٹک تجارتی تعلقات میں "ممکنہ چیلنجوں" سے آگاہ ہے۔
انہوں نے برسلز میں یورپی یونین کے رہنماؤں سے ایک غیر رسمی میٹنگ کے بعد کہا، "جب غیر منصفانہ یا من مانی طور پر نشانہ بنایا جائے گا، تو یورپی یونین سختی سے جواب دے گی۔
"انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے رہنما تجارتی تناؤ کو روکنے کے طریقے کے طور پر عملیت پسند بننا، جلد مشغول ہونا، بات چیت اور امریکہ کے ساتھ گفت و شنید کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی کی یورپی یونین کی مصنوعات پر مزید محصولات کی دھمکی
انہوں نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا، "آج ہونے والی بحث اصول کے بارے میں تھی، سب سے پہلے، تیار رہیں۔
اور میں صرف یہ کہہ سکتی ہوں کہ ہم تیار ہیں۔"خیال رہے ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ میکسیکو، کینیڈا اور چین پر محصولات عائد کرنے کے بعد اب یورپی یونین کا نمبر ہے۔
ٹرمپ نے کینیڈا پر ٹیرف فی الحال ملتوی کردیاامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ اوٹاوا کی جانب سے فینٹینیل جیسی منشیات کی مہلک لعنت کو ختم کرنے کے لیے سخت سرحدی اقدامات پر رضامندی کے بعد کینیڈا کے لیے محصولات کو 30 دن کے لیے روک دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے یہ اعلان اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے بیان کے فوراً بعد کہا کہ محصولات ملتوی کر دیے جائیں گے۔
چپ پر امریکی پابندی کے جواب میں چین نے بھی برآمدات پر پابندی لگا دی
ٹرمپ نے کہا، "بطور صدر، تمام امریکیوں کی حفاظت کو یقینی بنانا میری ذمہ داری ہے، اور میں یہی کر رہا ہوں۔" "میں اس ابتدائی نتائج سے بہت خوش ہوں، اور ہفتہ کو اعلان کردہ ٹیرف 30 دن کی مدت کے لیے روک دیا جائے گا۔"
پیر کو ایک الگ بیان میں، ٹرمپ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ میکسیکو کے صدر کلاڈیا شین بام سے بات کرنے کے بعد میکسیکو کے خلاف محصولات کے نفاذ میں تاخیر کریں گے۔
ج ا ⁄ ص ز ( اے پی، روئٹرز، اے ایف پی)
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے محصولات عائد یورپی یونین جائے گا کرنے کے کی صدر کے بعد کے لیے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔