Nawaiwaqt:
2026-07-24@08:35:02 GMT

پاکستان ریلوے کا جدیدیت کی جانب انقلابی قدم

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT

پاکستان ریلوے کا جدیدیت کی جانب انقلابی قدم

پاکستان ریلوے نے جدیدیت کی جانب انقلابی قدم بڑھا دیا ہے اور دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق رابطہ ایپلیکیشن تیار کر لی ہے پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی رائے ریلوے کا اجلاس چیئرمین رائے حسن نواز کی صدارت میں ہوا جس میں ریلوے حکام نے بھی شرکت کی۔سیکریٹری ریلوے نے کمیٹی کو بتایا کہ اب جب پوری دنیا الیکٹرانک ریلوے کی طرف جا رہے ہے تو پاکستان ریلوے کو بھی اس جدت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے رابطہ ایپلیکیشن تیار کر لی ہے۔انہوں نے بتایا کہ رابطہ اپیلیکشن کے ذریعے گھر بیٹھے سیٹ کی بکنگ کے علاوہ دیگر معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں اور 5 سے 6 ماہ میں ریلوے کی تمام کوچز کو اس ایپ کے ساتھ منسلک کر دیا جائے گا۔اس موقع پر سیکریٹری کمیٹی نے استفسار کیا کہ اس ایپ کی تیاری پر کتنا خرچہ آیا تو ریلوے حکام نے بتایا کہ اس پر کوئی خرچہ نہیں آیا ہے۔سیکریٹری ریلوے نے یہ بھی بتایا کہ سی پیک ایم ایل ون پشاور سے کراچی 1726 کلومیٹر ریلوے ٹریک ہے اور اس پر 6.

8 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ اس وقت 34 ٹرینیں چل رہی ہیں جب کہ ایم ایل ون بننے کے بعد 120 ٹرینیں چلائی جا سکیں گی۔انہوں نے اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ایم ایل ون دو فیزز میں بنایا جائے گا۔ پہلا فیز کراچی سے ملتان جبکہ فیز ٹو ملتان پشاور تک ہو گا جب کہ ایم ایل تھری کی بہتری کا مکینزم بنا لیا ہے۔ اس سلسلے میں چین سے بھی ماہرین کا ایک وفد رواں ماہ پاکستان آ رہا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس منصوبے کو فوری شروع کیا جائے۔سیکریٹری ریلوے نے کمیٹی کو بتایا کہ 1979 میں لاہور سے خانیوال کے درمیان الیکٹرک ٹرین شروع کی گئی اور اس کا ٹریک 286 کلومیٹر طویل تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان ریلوے نے 13 ٹرینوں کو آؤٹ سورس کیا اور اس سے سروس کا معیار بہتر ہوا جب کہ آمدنی بھی بڑھی۔ جس ٹرین سے ہم سات ارب روپے کما رہے تھے اور اسی سے 11 ارب روپے کما رہے ہیں۔ جب تک سات دن کی پیمنٹ نہیں کی جاتی، ہم ٹرین چلنے نہیں دیتے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پاکستان ریلوے ریلوے نے بتایا کہ ایم ایل اور اس

پڑھیں:

پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش

فوٹو: فائل

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش کردی اور ہدایت کی ہے کہ تمام ڈسکوز ملازمین کو تنخواہوں کی ڈیجیٹل ادائیگی یقینی بنائیں۔

پی اے سی اجلاس کے دوران سیکریٹری پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی بنانے اور تقسیم کے کاروبار سے نکل رہی ہے۔ تین ڈسکوز کی نجکاری کیلئے معاملات حتمی مراحل میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حیسکو اور سیپکو کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر مقرر کر رہے ہیں۔ حکومت صرف ٹیسکو اور کیسکو کو اپنے پاس رکھے گی۔ کابینہ کا فیصلہ ہے کہ ٹیسکو اور کیسکو کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔

سیکریٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ 2027 کے آغاز میں تین ڈسکوز کی نجکاری مکمل ہوجائے گی۔ گیپکو، فیسکو اور آئیسکو کی نجکاری 2027 کے آغاز میں ہوجائے گی، تمام ڈسکوز کی نجکاری تیزی سے ہوگی۔

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش