اینٹی کرپشن بلوچستان کی کارروائی، بیس کروڈ کی بدعنوانی میں مفرور ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
ڈی جی اینٹی کرپشن عبدالواحد کاکڑ نے بتایا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ملازمین کرپشن کیس کے اندراج کے بعد مفرور ہو گئے تھے، جن میں سے ایک کو آج گرفتار کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ محکمہ اینٹی کرپشن بلوچستان نے کوئٹہ میں کارروائی کرتے ہوئے بیس کروڑ کی بدعنوانی کے مقدمے میں مفرور محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ایس ڈی او کو گرفتار کرلیا، جبکہ ایکس ای این کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ ڈی جی اینٹی کرپشن عبدالواحد کاکڑ نے نجی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ایس ڈی ضیاء اللہ نے اپنے ایکس ای این خیر بخش اور دیگر ملزمان کے ساتھ ملکر کو سپین کاریز میں سو ایکڑ پارک کی تعمیری منصوبے میں بیس کروڑ روپے کی ایڈوانس ادائیگی کی اور تین سال گزرنے کے باجود اس اسکیم کا کوئی وجود نہیں ہے۔ محکمہ اینٹی کرپشن نے بیس کروڑ روپے کی خردبرد کے الزام پر مقدمہ درج کیا، تو ملزمان مفرور ہوگئے۔ تاہم محکمہ اینٹی کرپشن نے ملزم ضیاء اللہ کو گرفتار کر لیا، جبکہ ایکس ای این خیر بخش سمیت دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اینٹی کرپشن
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔