کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا: آرمی چیف
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر—فائل فوٹو
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے مظفرآباد کا دورہ کیا۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور یادگار شہداء پر پھول رکھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کشمیر میں چیلنجنگ آپریشنل حالات کے مقابلے میں تعینات افسروں اور سپاہیوں کی تعریف کی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت 5 اگست 2019ء کی سوچ سے باہر نکلے۔
آرمی چیف نے جوانوں کی غیرمتزلزل لگن، پیشہ ورانہ مہارت اور جنگی تیاری کی بھی تعریف کی اور جوانوں کے بلند حوصلے اور چوکس رہنے کو سراہا۔
انہوں نے مسلح افواج کی جنگی تیاریوں پر مکمل اعتماد کا اظہار بھی کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے اشتعال انگیزی کو روکنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اعلیٰ آپریشنل تیاریوں کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ بھارتی مظالم سے کشمیریوں کی جدوجہد کمزور نہیں ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران WhatsAppFacebookX 0 24 July, 2026 سب نیوز
تہران(آئی پی ایس )ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔ایرانی عہدیدار نے مزید دعوی کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔
ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔ تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبراسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد اگلی خبرغیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر اسحاق ڈار کا اظہارِ تشکر وزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی ایران کے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے، طیارہ گرانے کا دعویٰ امریکا کے مسلسل 13 ویں رات ایران پر حملے، کئی شہروں میں دھماکے، 4 افراد جاں بحق آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم