سیاسی مفادات کیلیے عمران خان اتنا گر سکتا ہے، اسکے سپورٹر سوچ بھی نہیں سکتے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT
اسلام آباد:وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے جلسے اور لانگ مارچ کے اعلان پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ملک دشمنی قرار دیا ہے۔
سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے 8 فروری کو لاہور میں جلسے کی اجازت مانگی ہے، جبکہ اسی دن پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان چیمپئنز ٹرافی کی تیاریوں کے سلسلے میں پہلا میچ شیڈول ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح پی ٹی آئی کی جانب سے 19 فروری کو لانگ مارچ کی کال دی گئی ہے، جبکہ یہ وہ دن ہے جب پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی کا پہلا میچ کھیلا جانا ہے۔
وزیر دفاع نے ان اعلانات کو پاکستان سے چیمپئنز ٹرافی کے میچز چھیننے کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کو کرکٹ کے میدان میں تنہا اور شرمندہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان صرف اپنے سیاسی مفادات کے لیے اس حد تک گر سکتے ہیں، جس کا شاید ان کے حمایتیوں کو بھی اندازہ نہیں تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
باب المندب سب کیلیے بند نہیں، صرف سعودی عرب کی ناکہ بندی ہے؛ ترجمان حوثی
یمن کے حوثی (انصار اللہ) گروپ نے اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ باب المندب جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار حوثیوں کے چیف مذاکرات کار اور ترجمان محمد عبدالسلام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کیا۔
انھوں نے آبنائے کی مکمل بندش کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ بحری ناکہ بندی صرف سعودی عرب کے خلاف ہیں۔ بقیہ تمام جہازوں کے لیے بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو مکمل طورکھلی ہوئی ہے۔
حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام نے بتایا کہ سعودی عرب کی ناکہ بندی یمن کے محاصرے اور ایسے منصفانہ حل کو قبول نہ کرنے کے ردعمل میں کی گئی ہے جو یمنی عوام کی سلامتی، خودمختاری اور آزادی کی ضمانت دے۔
ترجمان محمد عبدالسلام نے زور دیا کہ حوثیوں کی کارروائیوں کا مقصد عالمی بحری تجارت کو روکنا نہیں بلکہ سعودی عرب پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ یمن کے بحران کے حل کے لیے پیش رفت ممکن ہو سکے۔
واضح رہے کہ انصار اللہ، جنہیں عام طور پر حوثی تحریک کہا جاتا ہے۔ غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے اکتوبر 2023 کے بعد سے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنا چکے ہیں لیکن اب سعودی ناکہ بندی بھی کردی گئی۔