اے آئی سے اپنی پسند کی ایپ تیار کریں، وہ بھی منٹوں میں۔۔۔
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT
سافٹ ویئر کمپنی ریپلٹ (Replit) نے اے آئی ٹول لانچ کیا ہے جو منٹوں میں موبائل فون کیلیے ایپ تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انڈین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ریپلٹ کے سی ای او امجد مساد نے ریپلٹ ایپ کی لانچنگ کا اعلان کیا جو کہ آئی او ایس اور اینڈروئیڈ صارفین کیلیے دستیاب ہے۔امجد مساد نے کہا کہ آپ کو جس چیز کی ضرورت ہو اس کیلیے ایپ بنا سکتے ہیں اور وہ بھی بالکل مفت میں۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں کچھ لوگ ٹول کا استعمال کرتے ہوئے ایپس تیار کر رہے ہیں ریپلٹ نے ستمبر 2024 میں ’ریپلٹ ایجنٹ‘ کے نام سے اے آئی ٹول پیش کیا تھا جو اب آئی فون اور اینڈروئیڈ صارفین کیلیے مفت میں دستیاب ہے۔آئی او ایس پر ریپلٹ کی تفصیلات فون سے پروجیکٹس، ایپس، گیمز اور کوڈنگ کا بہترین طریقہ بیان کرتی ہے۔ ایپ سیکڑوں پروگرامنگ زبانوں اور فریم ورکس کو سپورٹ کرتی ہے۔تکنیکی ماہرین نے ریپلٹ کیلیے اپنے جائزہ شائع کیے ہیں۔سرف آفس کے بانی پیٹر فیبر نے جنوری میں ریپلٹ کا جائزہ پوسٹ کیا تھا کہ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ریپلٹ بہت اچھھی ایپ ہے، میرے پاس ایک سادہ ایپ کا آئیڈیا تھا جسے لکھا تو 45 منٹ کے بعد ایپ تیار ہوگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔