فلم ’کیسری ویر‘ کے سیٹ پر خوفناک حادثہ، بالی ووڈ اداکار شدید جھلس گئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT
بالی ووڈ اداکار سورج پنچولی اپنی پہلی بایوپک ’کیسری ویر: لیجنڈ آف سومناتھ‘ میں جنگجو ویر ہمیرجی گوہل کا کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن فلم کے سیٹ پر ایک خطرناک حادثہ پیش آیا جس میں وہ شدید جھلس گئے۔ یہ واقعہ فلم سٹی، ممبئی میں شوٹنگ کے دوران پیش آیا۔
ذرائع کے مطابق، فلم کے ایک اہم ایکشن سین کے دوران، سورج پنچولی کو پائروٹیکنکس (آتش بازی) کے دھماکے کے اوپر سے چھلانگ لگانی تھی، لیکن ٹائمنگ کی غلطی کے باعث دھماکہ وقت سے پہلے ہوگیا، اور ان کے نیچے ہی زوردار دھماکہ ہوگیا۔
زیادہ مقدار میں گن پاؤڈر کے استعمال کی وجہ سے ان کے ران اور ہیمسٹرنگ (ٹانگوں کے پچھلے حصے) شدید جھلس گئے۔
حادثے کے فوراً بعد، موقع پر موجود میڈیکل ٹیم نے سورج پنچولی کا علاج کیا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے بریک لینے سے انکار کردیا اور شوٹنگ جاری رکھی۔
پورے شیڈول کے دوران انہوں نے تکلیف برداشت کرتے ہوئے اپنا کردار نبھایا، جس نے ان کے پیشہ ورانہ عزم اور جنون کو نمایاں کیا۔
یہ فلم گجرات کے مشہور سومناتھ مندر پر ہونے والی جنگ پر مبنی ہے، جس میں سورج پنچولی کے ساتھ سنیل شیٹی، وویک اوبرائے اور آکانکشا شرما بھی نظر آئیں گے۔
رپورٹس کے مطابق، وویک اوبرائے ولن کے روپ میں جبکہ سنیل شیٹی ایک مثبت کردار میں دکھائی دیں گے جو مندر کی حفاظت میں مدد کریں گے۔ فلم کے اعلان کے بعد سے ہی مداحوں میں زبردست جوش و خروش پایا جارہا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سورج پنچولی
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔