مراکش کشتی حادثہ: جاں بحق چار پاکستانیوں کی لاشیں پاکستان پہنچا دی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT
ویب ڈیسک:مراکش کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے چار پاکستانیوں کی لاشیں پاکستان پہنچا دی گئی ہیں۔ یہ لاشیں پرواز ایس وی 726 کے ذریعے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچائی گئیں، جہاں وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے لاشیں وصول کیں۔
ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق، دو میتوں کا تعلق منڈی بہاؤالدین سے ہے، جبکہ ایک میت کا تعلق شیخوپورہ سے ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں محمد ارسلان، علی سجاد، حامد شبیر، اور اقبال وقاص شامل ہیں۔
صدر مملکت کی چینی وزیراعظم سے ملاقات، تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ
وفاقی وزیر سمندر پار پاکستانی چوہدری سالک حسین نے انٹرنیشنل کارگو ٹرمینل پر میتیں وصول کیں اور اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات موبائل فون، انٹرنیٹ سروسز کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز مہنگی ہونے کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کابینہ کمیٹی برائے ادویات کی قیمتوں کا آٹھواں اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج، سیکریٹری قومی صحت، ضابطہ و رابطہ محمد اسلم غوری، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ اور وزارت تجارت و وزارت خزانہ کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے نئی ادویات کی قیمتوں کے تعین، ہارڈ شپ درخواستوں، قیمتوں سے متعلق دیگر معاملات اور ضروری ادویات کی دستیابی کے حوالے سے اپنی سفارشات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ میں گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا اور کمیٹی کے غور کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق فیصلے شفاف، شواہد پر مبنی، مشاورتی عمل کے تحت اور وسیع تر عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ضروری ادویات تک مریضوں کی رسائی، ادویہ ساز صنعت کی پائیدار فراہمی اور مریضوں کے لیے ادویات کی استطاعت کے درمیان متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
وزیر خزانہ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اہم ادویات سے متعلق فیصلوں کی وجوہات عوام تک واضح انداز میں پہنچائی جائیں تاکہ ان کے پس منظر اور مقاصد کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔