اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ معاشی میدان میں اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیںکہ معاشی شعبے میں بنیادی اصلاحات پر عمل پیرا ہیں۔
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد میں بریتھ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ رائٹ سائزنگ پالیسی کے تحت بعض وزارتوں کو ضم کیا جا رہا ہے، ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ نے مزید کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے پاکستان بہت متاثر ہوا ہے، ماحولیاتی فنڈ کے قیام کے بعد متاثرہ ممالک کی مدد ضروری ہے، ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مزید اقدامات پر توجہ دینا ہو گی۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ ایک ملک اکیلے حل نہیں کر سکتا، دنیا کو اکٹھا ہونا ہو گا۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے اسلام آباد میں موسمیاتی تبدیلی پر بین الاقوامی کانفرنس خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لئے صرف ایک خطرہ نہیں اب ایک حقیقت بن گئی ہے، ہمیں گرین پاکستان کی طرف جانا ہو گا، ہم تاخیر نہیں کر سکتے۔
احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہمیں موسمیاتی تبدیلی پر پالیسی سے اب عملدرآمد کی طرف جانا ہو گا، ہمیں انفرادی کوشش سے اجتماعی ذمے داری کی طرف جانا ہو گا، آلودگی میں ہمارا حصہ بہت کم ہے لیکن ہم سب سے زیادہ موسمیاتی تبدیلی کا شکار ملک ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سموگ اب ایک بڑا قومی مسئلہ بن گئی ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلی پالیسی اور پلان لایا، پالیسی پر عملدرآمد کرنا ہو گا، اڑان پاکستان پروگرام میں موسمیاتی تبدیلی شامل ہے، موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ ایک ملک اکیلے حل نہیں کر سکتا، دنیا کو اکٹھا ہونا ہو گا۔
احسن اقبال نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا ہے کہ ہمیں دوسروں کا انتظار نہیں کرنا چاہئے، پاکستان کو لیڈ لے کر مثال قائم کرنا ہو گی۔ 

کوئٹہ: 90 افراد کا پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے سے انکار، 5 افراد گرفتار

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلی وفاقی وزیر کہا ہے کہ نہیں کر نے کہا

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات موبائل فون، انٹرنیٹ سروسز کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف